صحیح بخاری حدیث ۳۲۱۴ - جبرائیلؑ کے سوار فرشتوں کا غبار
بنو غنم کی گلی کا غبار: جبرائیلؑ کے لشکر کا مختصر ذکر
صحیح بخاری : ۳۲۱۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۱۴
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى غُبَارٍ سَاطِعٍ فِي سِكَّةِ بَنِي غَنْمٍ زَادَ مُوسَى مَوْكِبَ جِبْرِيلَ " .
انس بن مالک روایت:
جیسے وہ غبار میری نظروں کے سامنے ہے۔ موسیٰ نے روایت میں یوں زیادتی کی کہ جبرائیل علیہ السلام کے (ساتھ آنے والے) سوار فرشتوں کی وجہ سے۔ جو غبار خاندان بنو غنم کی گلی سے اٹھا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۲۱۴ کا خلاصہ
یہ حدیث مختصر ہے، اس لیے اس کی بات بھی مختصر اور احتیاط سے سمجھنی چاہیے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جیسے وہ غبار میری نظروں کے سامنے ہے، جو بنو غنم کی گلی سے اٹھا تھا۔ روایت میں موسیٰ کی زیادت کے مطابق یہ جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ آنے والے سوار فرشتوں کی وجہ سے تھا۔ حدیث میں اس سے زیادہ تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے اس پر اپنی طرف سے کوئی واقعہ بڑھانا درست نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ فرشتوں کی مدد اور جبرائیل علیہ السلام کا ذکر آیا ہے، اور ایک صحابی نے اس منظر کے غبار کو اپنی یاد میں محفوظ رکھا۔ یہ روایت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اللہ کے لشکر انسان کی عام نظر سے ہمیشہ مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوتے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ سوار فرشتوں کا ذکر آیا ہے۔
- انس رضی اللہ عنہ نے بنو غنم کی گلی کے غبار کو یاد رکھا۔
- مختصر روایت میں اپنی طرف سے تفصیل نہیں بڑھانی چاہیے۔
- اللہ کی مدد کے انداز انسان کے اندازوں سے مختلف ہو سکتے ہیں۔
