صحیح بخاری حدیث ۳۲۱۳ - حسانؓ کے ساتھ جبرائیلؑ
جبرائیلؑ حسانؓ کے ساتھ: حق کے دفاع کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۲۱۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۱۳
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ : " اهْجُهُمْ أَوْ هَاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ " .
براء بن عازب روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا ”مشرکین مکہ کی تم بھی ہجو کو یا (یہ فرمایا کہ) ان کی ہجو کا جواب دو، جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۲۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ مشرکین مکہ کی ہجو کرو یا ان کی ہجو کا جواب دو، جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔ حدیث کا موضوع حق کے دفاع میں زبان کا استعمال ہے۔ یہاں ذاتی جھگڑے یا عام طنز کا ذکر نہیں، بلکہ مشرکین کے جواب کا خاص موقع بیان ہوا ہے۔ اس لیے حدیث کو اسی حد میں سمجھنا چاہیے۔ حسان رضی اللہ عنہ شاعر تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس موقع پر جواب دینے کا فرمایا۔ جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ ہونے کا ذکر اس کام کی تائید کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین کے دفاع میں درست موقع پر درست جواب دیا جا سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ کو مشرکین کا جواب دینے کا فرمایا۔
- جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ ہونے کا ذکر آیا ہے۔
- زبان کا استعمال حق کے دفاع میں ہو تو اس کی الگ حیثیت ہے۔
- حدیث کو ذاتی طنز یا بے مقصد شاعری پر نہیں پھیلانا چاہیے۔
