صحیح بخاری حدیث ۳۲۱۹ - قرآن سات حروف پر نازل ہوا

سات حروف کی حدیث: قرآن کی قراءت میں آسانی کا بیان

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۱۹

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَقْرَأَنِي جِبْرِيلُ عَلَى حَرْفٍ فَلَمْ أَزَلْ أَسْتَزِيدُهُ حَتَّى انْتَهَى إِلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ " .

ابن عباس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جبرائیل علیہ السلام نے قرآن مجید مجھے (عرب کے) ایک ہی محاورے کے مطابق پڑھ کر سکھایا تھا، لیکن میں اس میں برابر اضافہ کی خواہش کا اظہار کرتا رہا، تاآنکہ عرب کے سات محاوروں پر اس کا نزول ہوا۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۲۱۹ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع قرآن کا سات حروف پر نازل ہونا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے مجھے قرآن ایک حرف پر پڑھایا۔ پھر میں ان سے اضافہ کی خواہش کرتا رہا، یہاں تک کہ سات حروف تک معاملہ پہنچا۔ اس حدیث میں قرآن کی تعلیم کا تعلق جبرائیل علیہ السلام سے بیان ہوا ہے۔ یہاں تفصیلی علمی بحث نہیں، بلکہ روایت کا صاف مفہوم یہ ہے کہ پہلے ایک حرف پر پڑھایا گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سوال پر سات حروف تک وسعت دی گئی۔ اس سے امت کے لیے قرآن کی قراءت میں آسانی اور اللہ کی طرف سے سہولت کا پہلو سامنے آتا ہے، مگر اس کی تفصیل اہلِ علم سے سیکھی جانی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جبرائیل علیہ السلام نے نبی صلى الله عليه وسلم کو قرآن پڑھایا۔
  • حدیث میں قرآن کے سات حروف کا ذکر ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے امت کے لیے آسانی کی خواہش فرمائی۔
  • قرآن کی قراءت کا معاملہ علم اور احتیاط سے سمجھنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں