صحیح بخاری حدیث ۳۲۲۱ - جبرائیلؑ نے نماز سکھائی
جبرائیلؑ کی امامت: پانچ نمازوں کے اوقات کی تعلیم
صحیح بخاری : ۳۲۲۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۲۱
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الْعَصْرَ شَيْئًا ، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ : أَمَا إِنَّ جِبْرِيلَ قَدْ نَزَلَ فَصَلَّى أَمَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ عُمَرُ : اعْلَمْ مَا تَقُولُ يَا عُرْوَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ بَشِيرَ بْنَ أَبِي مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا مَسْعُودٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " نَزَلَ جِبْرِيلُ فَأَمَّنِي فَصَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ ، ثُمَّ صَلَّيْتُ مَعَهُ يَحْسُبُ بِأَصَابِعِهِ خَمْسَ صَلَوَاتٍ " .
ابن شہاب روایت:
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے ایک دن عصر کی نماز کچھ دیر کر کے پڑھائی۔ اس پر عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے ان سے کہا۔ لیکن جبرائیل علیہ السلام (نماز کا طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھانے کے لیے) نازل ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ہو کر آپ کو نماز پڑھائی۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا، عروہ! آپ کو معلوم بھی ہے آپ کیا کہہ رہے ہیں؟عروہ نے کہا کہ (اور سن لو) میں نے بشیر بن ابی مسعود سے سنا اور انہوں نے ابومسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور انہوں نے مجھے نماز پڑھائی۔ میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر (دوسرے وقت کی) ان کے ساتھ میں نے نماز پڑھی، پھر ان کے ساتھ میں نے نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، اپنی انگلیوں پر آپ نے پانچوں نمازوں کو گن کر بتایا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۲۲۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں نماز کے اوقات اور جبرائیل علیہ السلام کی تعلیم کا ذکر ہے۔ عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو عصر کی تاخیر پر یاد دلایا کہ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے ہو کر نماز پڑھائی۔ پھر ابو مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت نقل کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جبرائیل نازل ہوئے، انہوں نے میری امامت کی، میں نے ان کے ساتھ نماز پڑھی، پھر پانچ نمازوں کو گن کر بتایا۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ نماز کا طریقہ اور اوقات وحی کی رہنمائی سے سکھائے گئے۔ نماز مسلمان کی زندگی کا مقرر اور پابند عمل ہے، جس میں وقت کی اہمیت صاف نظر آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جبرائیل علیہ السلام نے نبی صلى الله عليه وسلم کو نماز پڑھائی۔
- پانچ نمازوں کا ذکر انگلیوں پر گن کر بیان کیا گیا۔
- نماز کے اوقات وحی کی تعلیم سے متعلق ہیں۔
- نماز میں وقت کی پابندی اہم ہے۔
