صحیح بخاری حدیث ۳۲۳۰ - مالک داروغہ جہنم کا ذکر
ونادوا يا مالك: مالک داروغہ جہنم کا ذکر
صحیح بخاری : ۳۲۳۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۳۰
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَنَادَوْا يَا مَالِكُ سورة الزخرف آية 77 ، قَالَ سُفْيَانُ : فِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ 0 وَنَادَوْا يَا مَالِ 0 " .
یعلیٰ بن امیہ روایت:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ منبر پر سورۃ الاحزاب کی اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے «ونادوا يا مالك» اور وہ دوزخی پکاریں گی اے مالک! (یہ داروغہ جہنم کا نام ہے) اور سفیان نے کہا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی رات میں یوں ہے «ونادوا يا مال.»۔
صحیح بخاری حدیث ۳۲۳۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر آیت ونادوا يا مالك پڑھتے سنا۔ ترجمے کے مطابق دوزخی پکاریں گے: اے مالک! یہاں مالک سے مراد جہنم کا داروغہ ہے۔ روایت میں سفیان کا یہ بھی بیان ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت میں ونادوا يا مال آیا ہے۔ اس حدیث کا موضوع جہنم کے داروغہ مالک کا ذکر اور قرآن کی تلاوت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا منبر پر اس آیت کو پڑھنا ہمیں آخرت، جہنم، اور اللہ کے کلام کو سنجیدگی سے سننے کی طرف متوجہ کرتا ہے، مگر یہاں وضاحت اسی متن تک محدود ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر ونادوا يا مالك کی تلاوت فرمائی۔
- مالک جہنم کے داروغہ کے طور پر ذکر کیے گئے ہیں۔
- حدیث میں قراءت کے ایک نقل شدہ فرق کا بھی ذکر ہے۔
- آخرت کی آیات انسان کو اپنے انجام پر سوچنے کی طرف لاتی ہیں۔
