صحیح بخاری حدیث ۳۲۳۶ - مالک، جبرائیل اور میکائیل کا ذکر
مالک، جبرائیل اور میکائیل: فرشتوں کے نام والی حدیث
صحیح بخاری : ۳۲۳۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۳۶
حَدَّثَنَا مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ ، عَنْ سَمُرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " رَأَيْتُ اللَّيْلَةَ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي ، قَالَا : الَّذِي يُوقِدُ النَّارَ مَالِكٌ خَازِنُ النَّارِ ، وَأَنَا جِبْرِيلُ ، وَهَذَا مِيكَائِيلُ " .
سمرہ بن جندب روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے آج رات (خواب میں) دیکھا کہ دو شخص میرے پاس آئے۔ ان دونوں نے مجھے بتایا کہ وہ جو آگ جلا رہا ہے۔ وہ جہنم کا داروغہ مالک نامی فرشتہ ہے۔ میں جبرائیل ہوں اور یہ میکائیل ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۲۳۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج رات میں نے خواب میں دیکھا کہ دو شخص میرے پاس آئے۔ انہوں نے بتایا کہ جو آگ جلا رہا ہے وہ مالک ہے، جہنم کا داروغہ۔ پھر ایک نے کہا کہ میں جبرائیل ہوں اور یہ میکائیل ہیں۔ اس حدیث کا موضوع فرشتوں کے نام اور ان کا تعارف ہے۔ اس میں تین نام صاف طور پر آتے ہیں: مالک، جبرائیل، اور میکائیل۔ مالک کو خازن النار یعنی جہنم کا داروغہ بتایا گیا ہے۔ حدیث میں خواب کا ذکر ہے، اس لیے بات اسی انداز میں بیان کی گئی ہے۔ یہ روایت آخرت، جہنم، اور فرشتوں کے وجود پر ایمان کو یاد دلاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں مالک کو جہنم کا داروغہ بتایا گیا ہے۔
- جبرائیل اور میکائیل علیہما السلام کے نام بھی اس روایت میں آئے ہیں۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واقعہ خواب کے طور پر بیان فرمایا۔
- فرشتوں کے بارے میں ایمان حدیث کے متن سے واضح ہوتا ہے۔
