صحیح بخاری حدیث ۳۲۳۷ - میاں بیوی کے حق کی اہمیت
میاں بیوی کے حق سے متعلق فرشتوں کی لعنت والی حدیث
صحیح بخاری : ۳۲۳۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۳۷
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ فَبَاتَ غَضْبَانَ عَلَيْهَا لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ " تَابَعَهُ شُعْبَةُ ، وَأَبُو حَمْزَةَ ، وابْنُ دَاوُدَ ، وأَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر کسی مرد نے اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلایا، لیکن اس نے آنے سے انکار کر دیا اور مرد اس پر غصہ ہو کر سو گیا، تو صبح تک فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔“ اس روایت کی متابعت، ابوحمزہ، ابن داود اور ابومعاویہ نے اعمش کے واسطہ سے کی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۲۳۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خاص حالت بیان فرمائی: جب کوئی مرد اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے، وہ آنے سے انکار کرے، اور شوہر اس پر ناراض ہو کر رات گزارے، تو صبح تک فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں۔ اس حدیث کا موضوع میاں بیوی کے تعلق میں حق کی سنجیدگی ہے۔ متن میں جو شرطیں آئی ہیں، انہیں الگ الگ سمجھنا چاہیے: بلانا، انکار، اور شوہر کا ناراض ہو کر رات گزارنا۔ اس حدیث میں عذر یا دوسری صورتوں کی تفصیل نہیں آئی، اس لیے وضاحت اسی بیان تک رکھی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نکاح کے رشتے میں ایک دوسرے کے حقوق کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے، اور ناراضی کو بڑھانے سے بچنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث ایک خاص صورت بیان کرتی ہے: بلانا، انکار، اور ناراضی کے ساتھ رات گزارنا۔
- نکاح کے رشتے میں حقوق کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
- فرشتوں کی لعنت کا ذکر اسی بیان کردہ حالت سے متعلق آیا ہے۔
- متن میں عذر کی تفصیل نہیں، اس لیے بات کو اسی حد میں رکھنا چاہیے۔
