صحیح بخاری حدیث ۵۱۹۳ - شوہر کے بلانے پر بیوی کا انکار
ازدواجی حق کی حدیث: ناراضگی میں بستر سے انکار
صحیح بخاری : ۵۱۹۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۹۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا دَعَا الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ إِلَى فِرَاشِهِ فَأَبَتْ أَنْ تَجِيءَ لَعَنَتْهَا الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُصْبِحَ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب شوہر اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ آنے سے (ناراضگی کی وجہ سے) انکار کر دے تو فرشتے صبح تک اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۱۹۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں میاں بیوی کے ازدواجی حق کا ایک حساس پہلو بیان ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب شوہر اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلائے اور وہ آنے سے انکار کر دے تو فرشتے صبح تک اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔ ترجمے میں ناراضگی کی وجہ سے انکار کا ذکر ہے، اس لیے بات اسی حد تک سمجھنی چاہیے۔ حدیث کا مقصد گھر کے تعلق میں ضد، ناراضگی اور حق تلفی سے بچانا ہے۔ ازدواجی زندگی میں دونوں طرف نرمی، حق شناسی اور معاملہ فہمی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس روایت میں خاص طور پر بیوی کو شوہر کے حق کی طرف متوجہ کیا گیا ہے، تاکہ گھر کا رشتہ ناراضگی اور دوری سے خراب نہ ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ناراضگی میں حق تلفی گھر کے تعلق کو نقصان دیتی ہے۔
- ازدواجی حق کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
- حدیث میں انکار پر سخت وعید آئی ہے۔
- گھر کے معاملے میں ضد کے بجائے نرمی بہتر ہے۔
