صحیح بخاری حدیث ۳۲۳۸ - نزول وحی کا دوبارہ آغاز

نزول وحی کا واقعہ: يا أيها المدثر کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۳۸

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " ثُمَّ فَتَرَ عَنِّي الْوَحْيُ فَتْرَةً فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي سَمِعْتُ صَوْتًا مِنَ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِي قِبَلَ السَّمَاءِ ، فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِي جَاءَنِي بِحِرَاءٍ قَاعِدٌ عَلَى كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، فَجُئِثْتُ مِنْهُ حَتَّى هَوَيْتُ إِلَى الْأَرْضِ فَجِئْتُ أَهْلِي ، فَقُلْتُ : زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى يَأَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ إِلَى قَوْلِهِ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ سورة المدثر آية 1 - 5 " ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ : وَالرِّجْزُ الْأَوْثَانُ .

جابر بن عبداللہ روایت:

پہلے غار حراء میں جو جبرائیل علیہ السلام مجھ کو سورۃ اقراء پڑھا کر گئے تھے اس کے بعد) مجھ پر وحی کا نزول (تین سال) بند رہا۔ ایک بار میں کہیں جا رہا تھا کہ میں نے آسمان میں سے ایک آواز سنی اور نظر آسمان کی طرف اٹھائی، میں نے دیکھا کہ وہی فرشتہ جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا (یعنی جبرائیل علیہ السلام) آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں انہیں دیکھ کر اتنا ڈر گیا کہ زمین پر گر پڑا۔ پھر میں اپنے گھر آیا اور کہنے لگا کہ مجھے کچھ اوڑھا دو، مجھے کچھ اوڑھا دو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ «يا أيها المدثر» اللہ تعالیٰ کے ارشاد «فاهجر» تک۔ ابوسلمہ نے کہا کہ آیت میں «الرجز» سے بت مراد ہیں۔

صحیح بخاری حدیث ۳۲۳۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ کچھ مدت وحی بند رہی۔ پھر ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے کہ آسمان سے آواز سنی۔ آپ نے اوپر دیکھا تو وہی فرشتہ تھا جو غار حرا میں آیا تھا، یعنی جبرائیل علیہ السلام۔ وہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس منظر سے بہت ڈر گئے، گھر آئے اور فرمایا: مجھے اوڑھا دو، مجھے اوڑھا دو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے يا أيها المدثر کی آیات نازل فرمائیں، قم فأنذر سے والرجز فاهجر تک۔ ابوسلمہ کے بیان کے مطابق الرجز سے مراد بت ہیں۔ یہ حدیث وحی، جبرائیل علیہ السلام، اور نبوت کے حکم کا بیان کرتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • وحی کچھ مدت کے لیے بند رہی، پھر دوبارہ آغاز کا واقعہ بیان ہوا۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو آسمان و زمین کے درمیان دیکھا۔
  • اس کے بعد سورۃ المدثر کی ابتدائی آیات نازل ہوئیں۔
  • حدیث میں الرجز کی وضاحت بتوں کے طور پر نقل ہوئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں