صحیح بخاری حدیث ۳۲۳۲ - جبرائیل علیہ السلام کے چھ سو بازو
جبرائیل علیہ السلام کی اصل صورت اور چھ سو بازو
صحیح بخاری : ۳۲۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۳۲
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ ، عَنْ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى : فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَى { 9 } فَأَوْحَى إِلَى عَبْدِهِ مَا أَوْحَى { 10 } سورة النجم آية 9-10 ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ : أَنَّهُ رَأَى " جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ " .
ابواسحاق شیبانی روایت:
میں نے زر بن حبیش سے اللہ تعالیٰ کے (سورۃ النجم میں) ارشاد «فكان قاب قوسين أو أدنى * فأوحى إلى عبده ما أوحى» کے متعلق پوچھا، تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو (اپنی اصلی صورت میں) دیکھا، تو ان کے چھ سو بازو تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۲۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سورۃ النجم کی آیات فكان قاب قوسين أو أدنى اور فأوحى إلى عبده ما أوحى کے بارے میں سوال کیا گیا۔ جواب میں زر بن حبیش نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، اور ان کے چھ سو بازو تھے۔ اس حدیث کا اصل موضوع جبرائیل علیہ السلام کی اصل صورت ہے۔ یہاں ہمیں کسی لمبی تفصیل میں نہیں جانا چاہیے، کیونکہ متن صرف اتنا بتاتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو دیکھا اور ان کے چھ سو بازو تھے۔ یہ روایت اللہ کی نشانیوں، وحی کے فرشتے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی گئی عظیم چیزوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا۔
- روایت میں جبرائیل علیہ السلام کے چھ سو بازو بیان ہوئے ہیں۔
- سورۃ النجم کی آیات کے بارے میں یہ جواب نقل ہوا ہے۔
- حدیث کے بیان کو اسی قدر سمجھنا چاہیے جتنا متن میں آیا ہے۔
