صحیح بخاری حدیث ۳۲۳۴ - نبی صلى الله عليه وسلم نے جبرائیل کو دیکھا

نبی صلى الله عليه وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو اصل صورت میں دیکھا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۳۴

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ أَنْبَأَنَا الْقَاسِمُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا رَأَى رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ ، وَلَكِنْ قَدْ رَأَى جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ ، وَخَلْقُهُ سَادٌّ مَا بَيْنَ الْأُفُقِ " .

عائشہ روایت:

جس نے یہ گمان کیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا تھا تو اس نے بڑی جھوٹی بات زبان سے نکالی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو (معراج کی رات میں) ان کی اصل صورت میں دیکھا تھا۔ ان کے وجود نے آسمان کا کنارہ ڈھانپ لیا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۲۳۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ جو یہ گمان کرے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا، اس نے بہت بڑی بات کہی۔ پھر انہوں نے وضاحت فرمائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی صورت میں دیکھا تھا، اور ان کا وجود آسمان کے کنارے کو ڈھانپے ہوئے تھا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع جبرائیل علیہ السلام کی اصل صورت اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی وضاحت ہے۔ یہاں اہم بات یہ ہے کہ متن دو باتیں الگ کرتا ہے: رب کو دیکھنے کے دعوے کی نفی، اور جبرائیل علیہ السلام کو اصل صورت میں دیکھنے کا اثبات۔ اس لیے اس حدیث کی وضاحت میں اسی فرق کو صاف رکھنا ضروری ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رب کو دیکھنے کے دعوے کی نفی کی۔
  • انہوں نے جبرائیل علیہ السلام کو اصل صورت میں دیکھنے کا بیان کیا۔
  • جبرائیل علیہ السلام کے وجود نے آسمان کے کنارے کو ڈھانپ لیا تھا۔
  • حدیث میں دو الگ باتیں ہیں، انہیں ملانا نہیں چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں