صحیح بخاری حدیث ۵۱۹۲ - شوہر کی موجودگی میں نفلی روزہ

نفلی روزہ اور شوہر کی اجازت: گھر کے حق کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۱۹۲

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصُومُ الْمَرْأَةُ وَبَعْلُهَا شَاهِدٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر شوہر گھر پر موجود ہے تو کوئی عورت اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے۔

صحیح بخاری حدیث ۵۱۹۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں نفلی روزے کے بارے میں گھر کے حق کو بیان کیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر شوہر گھر پر موجود ہو تو عورت اس کی اجازت کے بغیر روزہ نہ رکھے۔ یہاں مراد نفلی روزہ ہے، کیونکہ فرض روزے اللہ کے حکم سے ادا کیے جاتے ہیں۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ عبادت کے شوق کے ساتھ گھر کے حق کا بھی خیال رکھا جائے۔ میاں بیوی کے حقوق، اجازت، اور باہمی ضرورت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ حدیث روزہ، بیوی کا حق، شوہر کا حق، اور گھر کے توازن کو آسان انداز میں سمجھاتی ہے۔ عبادت کا جذبہ بہت اچھا ہے، مگر نفلی عبادت میں ایسے حق کو بھی دیکھا جائے جو گھر کے رشتے سے وابستہ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نفلی روزے میں شوہر کی موجودگی کا حق دیکھا جائے۔
  • عبادت کے ساتھ گھر کے حقوق کا خیال بھی ضروری ہے۔
  • میاں بیوی کے تعلق میں اجازت اور باہمی سمجھ اہم ہے۔
  • فرض اور نفلی عمل کے فرق کو سمجھنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں