صحیح مسلم حدیث ۲۶۳۶ - لوگوں کے سامنے عرفہ میں دودھ پینا
عرفہ کے دن لوگوں کے سامنے دودھ پینے کی حدیث
صحیح مسلم : ۲۶۳۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۳۶
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ ، عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " إِنَّ النَّاسَ شَكُّوا فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ ، فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ مَيْمُونَةُ بِحِلَابِ اللَّبَنِ وَهُوَ وَاقِفٌ فِي الْمَوْقِفِ ، فَشَرِبَ مِنْهُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ " .
ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بی بی نے فرمایا کہ لوگوں نے شک کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے میں عرفہ کے دن (میدان عرفات میں) سو بھیجا سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے ایک لوٹا دودھ کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وقوف کیے ہوئے تھے موقف میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی لیا اور سب لوگ دیکھتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو۔
صحیح مسلم حدیث ۲۶۳۶ کا خلاصہ
ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لوگوں نے عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے بارے میں شک کیا۔ انہوں نے دودھ کا ایک برتن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم موقف میں وقوف کیے ہوئے تھے، پھر آپ نے اس میں سے دودھ پی لیا اور لوگ آپ کو دیکھ رہے تھے۔ اس حدیث میں خاص بات یہ ہے کہ دودھ پینے کا عمل لوگوں کے سامنے ہوا، اس لیے شک باقی نہ رہا۔ یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل خود وضاحت بن گیا۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب لوگوں کو کسی عمل کے بارے میں غلط فہمی ہو تو کبھی کھلی اور صاف وضاحت ضروری ہوتی ہے۔ حدیث کے الفاظ سے اتنا ہی معلوم ہوتا ہے کہ اس موقع پر آپ روزے سے نہیں تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لوگوں کے شک کو واضح عمل سے ختم کیا گیا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے سامنے دودھ پیا۔
- دینی معاملے میں وضاحت کبھی عملی طریقے سے بھی ہوتی ہے۔
- روایت سے وہی نتیجہ لیا جائے جو الفاظ سے ثابت ہو۔
