صحیح بخاری حدیث ۱۶۵۸ - عرفہ کے دن نبی صلى الله عليه وسلم کا پینا
عرفہ کے دن روزے کا سوال: نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے مشروب پی لیا
صحیح بخاری : ۱۶۵۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۵۸
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، " شَكَّ النَّاسُ يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَعَثْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَهُ " .
ام فضل روایت:
عرفہ کے دن لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے متعلق شک ہوا، اس لیے میں نے آپ کو پینے کے لیے کچھ بھیجا جسے آپ نے پی لیا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۶۵۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں عرفہ کے دن ایک سوالی کیفیت کا ذکر ہے۔ لوگوں کو شک ہوا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم روزے سے ہیں یا نہیں۔ ام فضل رضی اللہ عنہا نے آپ صلى الله عليه وسلم کے پاس پینے کی چیز بھیجی، اور آپ صلى الله عليه وسلم نے اسے پی لیا۔ متن بہت مختصر ہے، مگر اس میں ایک عملی جواب ملتا ہے: جب لوگوں کو شبہ ہوا تو آپ صلى الله عليه وسلم کا پینا سب کے لیے بات واضح کرنے کا ذریعہ بن گیا۔ اس روایت کا اصل موضوع عرفہ کے دن روزہ، حاجی کا حال، اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا عمل ہے۔ اس سے زیادہ بات متن میں نہیں آئی، اس لیے اسے اسی واقعے تک رکھا جائے گا۔ حدیث ہمیں یہ بھی دکھاتی ہے کہ صحابہ کسی اہم دینی عمل کے بارے میں وضاحت چاہتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عرفہ کے دن لوگوں کو نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے روزے کے بارے میں شک ہوا۔
- ام فضل رضی اللہ عنہا نے مشروب بھیجا، جسے آپ صلى الله عليه وسلم نے پی لیا۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے عمل سے صحابہ کے سامنے بات واضح ہو گئی۔
