صحیح بخاری حدیث ۱۶۵۷ - دو رکعت قبول ہو جائیں

منیٰ کی نماز: دو رکعت اور قبولیت کی فکر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۵۷

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : "صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ ، وَمَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ تَفَرَّقَتْ بِكُمُ الطُّرُقُ فَيَا لَيْتَ حَظِّي مِنْ أَرْبَعٍ رَكْعَتَانِ مُتَقَبَّلَتَانِ " .

عبداللہ بن مسعود روایت:

میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو ہی رکعت پڑھی اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو ہی رکعت، لیکن پھر ان کے بعد تم میں اختلاف ہو گیا تو کاش ان چار رکعتوں کے بدلے مجھ کو دو رکعات ہی نصیب ہوتیں جو (اللہ کے ہاں) قبول ہو جائیں۔

صحیح بخاری حدیث ۱۶۵۷ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اپنا عمل بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھی، ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعت، اور عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعت۔ پھر انہوں نے بعد کے اختلاف کا ذکر کیا اور فرمایا کہ کاش ان چار رکعتوں کے بدلے مجھے دو رکعت ہی نصیب ہوں جو قبول ہو جائیں۔ اس روایت کا موضوع منیٰ میں قصر نماز بھی ہے اور عبادت کی قبولیت کا احساس بھی۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی بات میں یہ پہلو صاف ہے کہ صرف تعداد کا مسئلہ نہیں، بلکہ دل میں یہ فکر بھی ہے کہ نماز اللہ کے ہاں قبول ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت کا عمل بیان ہوا۔
  • ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بعد کے اختلاف پر افسوس کا اظہار کیا۔
  • حدیث میں نماز کی قبولیت کی فکر بڑے نرم انداز میں سامنے آتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں