صحیح بخاری حدیث ۱۶۵۶ - امن کے باوجود منیٰ میں قصر

منیٰ میں دو رکعت: کثرت اور امن کے وقت بھی قصر

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۶۵۶

حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَكْثَرُ مَا كُنَّا قَطُّ ، وَآمَنُهُ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ " .

حارثہ بن وہب خزاعی روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں ہمیں دو رکعات پڑھائیں، ہمارا شمار اس وقت سب سے زیادہ تھا اور ہم اتنے بے ڈر کسی وقت میں نہ تھے۔ (اس کے باوجود ہم کو نماز قصر پڑھائی)۔

صحیح بخاری حدیث ۱۶۵۶ کا خلاصہ

اس حدیث میں حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ ایک خاص بات بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے ہمیں منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھائی، جبکہ اس وقت ہمارا شمار بہت زیادہ تھا اور ہم امن میں بھی تھے۔ روایت میں یہ نکتہ خاص طور پر ذکر ہوا ہے تاکہ معلوم ہو کہ منیٰ میں دو رکعت پڑھانا کسی خوف یا کم تعداد کی وجہ سے نہیں تھا۔ متن میں اصل موضوع قصر نماز، منیٰ، اور نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی امامت ہے۔ اس سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ صحابی نے صرف عمل نہیں بتایا بلکہ حالات بھی بیان کیے: لوگ زیادہ تھے، امن تھا، پھر بھی نماز دو رکعت پڑھائی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے منیٰ میں دو رکعت نماز پڑھائی۔
  • صحابی نے بتایا کہ اس وقت لوگ زیادہ بھی تھے اور امن بھی تھا۔
  • حدیث میں دو رکعت کو خوف یا کمی تعداد سے وابستہ نہیں کیا گیا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں