صحیح مسلم حدیث ۲۶۳۷ - رمضان کے بعد عاشورا کا اختیار

عاشورا کا روزہ: رمضان فرض ہونے کے بعد اختیار

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۳۷

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَتْ قُرَيْشٌ تَصُومُ عَاشُورَاءَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ ، فَلَمَّا هَاجَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ صَامَهُ وَأَمَرَ بِصِيَامِهِ ، فَلَمَّا فُرِضَ شَهْرُ رَمَضَانَ ، قَالَ : " مَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ " ،

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: قریش عاشورے کے دن روزہ رکھتے تھے ایام جاہلیت میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو ہجرت کی روزہ رکھا اور اس دن روزے کا حکم فرمایا پھر جب رمضان فرض ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چاہے اب عاشورے کو روزہ رکھے جو چاہے چھوڑ دے۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۶۳۷ کا خلاصہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ قریش زمانہ جاہلیت میں عاشورا کے دن روزہ رکھتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسے رکھتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے عاشورا کا روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم بھی فرمایا۔ پھر جب رمضان فرض ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چاہے عاشورا کا روزہ رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔ اس حدیث کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ عاشورا کے روزے کی حیثیت رمضان کے فرض روزوں کے بعد اختیار والی ہو گئی۔ یہاں ہمیں ایک حکم کے بدلنے کا صاف بیان ملتا ہے۔ حدیث میں عاشورا کے تاریخی عمل، مدینہ کے بعد حکم، اور رمضان فرض ہونے کے بعد اختیار، تینوں باتیں سادہ انداز میں آتی ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • عاشورا کا روزہ رمضان سے پہلے رکھا جاتا تھا۔
  • مدینہ ہجرت کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس روزے کا حکم فرمایا۔
  • رمضان فرض ہونے کے بعد عاشورا کا روزہ اختیار پر چھوڑا گیا۔
  • حدیث میں حکم کے مرحلے واضح طور پر بیان ہوئے ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں