صحیح مسلم حدیث ۲۶۳۸ - عاشورا کے روزے کی دوسری روایت
عاشورا کا روزہ: روایت کے الفاظ میں فرق اور اصل مضمون
صحیح مسلم : ۲۶۳۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۳۸
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُهُ ، وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ : وَتَرَكَ عَاشُورَاءَ فَمَنْ شَاءَ صَامَهُ وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ ، وَلَمْ يَجْعَلْهُ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَرِوَايَةِ جَرِيرٍ .
ہشام روایت:
ہشام نے اس اسناد سے یہی روایت کی اور اول حدیث میں یہ نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشورے کا روزہ رکھتے تھے اور آخر میں یہ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورے کا روزہ چھوڑ دیا۔ پھر جس کا جی چاہے روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے چھوڑ دے اور اس بات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نہیں ٹھہرایا جیسے جریر کی روایت میں تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۶۳۸ کا خلاصہ
یہ روایت اسی مضمون کو ہشام کی سند سے بیان کرتی ہے، مگر اس میں شروع میں یہ ذکر نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عاشورا کا روزہ رکھتے تھے۔ آخر میں یہ الفاظ آئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورا کا روزہ چھوڑ دیا، پھر جس کا جی چاہے روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے چھوڑ دے۔ روایت میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس جملے کو جریر کی روایت کی طرح براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول نہیں بنایا گیا۔ اس حدیث کا اہم پہلو یہ ہے کہ حدیث کے الفاظ کو احتیاط سے سمجھا جائے۔ اصل مضمون پھر بھی یہی ہے کہ رمضان فرض ہونے کے بعد عاشورا کا روزہ اختیار کے درجے میں آ گیا۔ اس روایت سے ہمیں نقل حدیث کی باریکی اور لفظی فرق کی اہمیت بھی معلوم ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث کے الفاظ میں آنے والے فرق کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
- عاشورا کے روزے کا اختیار والا مضمون اس روایت میں بھی موجود ہے۔
- کسی جملے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول قرار دینے میں احتیاط ضروری ہے۔
- روایت کی تفصیل کو اسی کے الفاظ کے مطابق سمجھنا چاہیے۔
