صحیح مسلم حدیث ۲۶۳۹ - جاہلیت میں عاشورا کا روزہ
جاہلیت میں عاشورا کا روزہ اور اسلام کے بعد اختیار
صحیح مسلم : ۲۶۳۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۳۹
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : " أَنَّ يَوْمَ عَاشُورَاءَ كَانَ يُصَامُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ ، مَنْ شَاءَ صَامَهُ ، وَمَنْ شَاءَ تَرَكَهُ " .
عائشہ روایت:
عاشورے کا روزہ جاہلیت میں رکھا جاتا تھا پھر جب اسلام آیا تو اب چاہے کوئی رکھے چاہے چھوڑ دے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۶۳۹ کا خلاصہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ عاشورا کا روزہ جاہلیت میں رکھا جاتا تھا۔ پھر جب اسلام آیا تو جس کا دل چاہے وہ اسے رکھے اور جس کا دل چاہے چھوڑ دے۔ یہ روایت بہت مختصر ہے، مگر اس کا پیغام صاف ہے۔ عاشورا کا روزہ ایک معروف عمل تھا، لیکن اسلام آنے کے بعد اس کے بارے میں اختیار کا پہلو بیان ہوا۔ اس حدیث میں رمضان کے فرض ہونے کی تفصیل نہیں آئی، اس لیے اس روایت کی تشریح میں صرف اتنی بات کہنی چاہیے جو متن میں ہے۔ اصل نکتہ یہی ہے کہ عاشورا کے روزے کو لازمی انداز میں نہیں رکھا گیا، بلکہ چاہنے والے کے لیے روزہ رکھنے اور نہ چاہنے والے کے لیے چھوڑنے کی گنجائش بیان ہوئی۔ سادہ الفاظ میں، یہ حدیث اختیار کو بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عاشورا کا روزہ جاہلیت میں بھی معروف تھا۔
- اسلام آنے کے بعد اس کے بارے میں اختیار بیان ہوا۔
- متن مختصر ہو تو تشریح بھی محدود اور محتاط ہونی چاہیے۔
- کسی عمل کے لازم یا اختیاری ہونے میں حدیث کے الفاظ اہم ہیں۔
