صحیح مسلم حدیث ۲۶۴۰ - رمضان سے پہلے عاشورا کا حکم
رمضان سے پہلے عاشورا کا روزہ اور بعد کا اختیار
صحیح مسلم : ۲۶۴۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۴۰
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِصِيَامِهِ قَبْلَ أَنْ يُفْرَضَ رَمَضَانُ ، فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ ، كَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حکم فرماتے تھے اس کے روزے کا (یعنی عاشورے کا) جب رمضان فرض نہیں ہوا تھا پھر جب رمضان فرض ہوا تو یہ حکم ہوا کہ جس کا جی چاہے وہ عاشورے کا روزہ رکھے اور جس کا جی چاہے نہ رکھے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۶۴۰ کا خلاصہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان فرض ہونے سے پہلے عاشورا کے روزے کا حکم فرماتے تھے۔ پھر جب رمضان فرض ہوا تو جس کا جی چاہے عاشورا کا روزہ رکھتا اور جس کا جی چاہے افطار کرتا۔ اس حدیث میں عاشورا کے روزے کی حیثیت بہت صاف انداز میں بیان ہوئی ہے۔ پہلے اس کا حکم تھا، پھر رمضان کے فرض ہونے کے بعد وہ اختیار کی صورت میں رہ گیا۔ یہاں ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حدیث کے اندر جب وقت اور حکم دونوں بیان ہوں تو انہیں ساتھ سمجھنا ضروری ہے۔ اس روایت میں کوئی اضافی تفصیل نہیں، بلکہ اصل بات یہی ہے کہ رمضان کے فرض روزے آنے کے بعد عاشورا کے روزے کو لازم نہیں رکھا گیا۔ جو رکھنا چاہے رکھے، جو نہ رکھے اس کے لیے بھی گنجائش ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان فرض ہونے سے پہلے عاشورا کے روزے کا حکم تھا۔
- رمضان فرض ہونے کے بعد عاشورا کا روزہ اختیار پر آ گیا۔
- دینی حکم کو اس کے وقت اور پس منظر کے ساتھ سمجھنا چاہیے۔
- حدیث کے الفاظ کے مطابق ہی حکم کی حد بیان کرنی چاہیے۔
