صحیح مسلم حدیث ۲۶۳۵ - عرفہ کے دن شک کا جواب
عرفہ کے دن نبی صلى الله عليه وسلم کے روزے پر شک اور عملی وضاحت
صحیح مسلم : ۲۶۳۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۳۵
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عُمَيْرًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ الْفَضْلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، تَقُولُ : " شَكَّ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صِيَامِ يَوْمِ عَرَفَةَ ، وَنَحْنُ بِهَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَعْبٍ فِيهِ لَبَنٌ وَهُوَ بِعَرَفَةَ ، فَشَرِبَهُ " .
عمیر، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے مولیٰ سے روایت ہے انہوں نے سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا سے سنا لوگوں نے شک کیا اصحاب رسول میں سے دن عرفہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے میں، تب انہوں نے ایک پیالہ دودھ کا بھیج دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی لیا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۶۳۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں عمیر، مولیٰ ابن عباس رضی اللہ عنہما، سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ اصحاب رسول میں سے کچھ لوگوں کو عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے بارے میں شک ہوا۔ وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفہ ہی میں موجود تھے۔ ام الفضل رضی اللہ عنہا نے دودھ کا پیالہ بھیجا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ میں اسے پی لیا۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو بہت توجہ سے دیکھتے تھے۔ جب کسی بات میں شک ہوا تو ایسا طریقہ اختیار کیا گیا جس سے بات کھل کر سامنے آ گئی۔ حدیث ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دینی مسئلے میں الجھن ہو تو شور یا بحث کے بجائے صاف دلیل اور واضح عمل زیادہ بہتر ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو دینی رہنمائی سمجھتے تھے۔
- شک دور کرنے کے لیے واضح طریقہ اختیار کیا گیا۔
- ام الفضل رضی اللہ عنہا کا عمل مسئلہ واضح کرنے کا سبب بنا۔
- دینی معاملے میں بحث کے بجائے یقینی بات تلاش کرنی چاہیے۔
