صحیح مسلم حدیث ۲۶۳۴ - ام الفضل کے مولیٰ عمیر کی روایت
عرفہ کے دن روزے کے واقعہ کی ایک اور سند
صحیح مسلم : ۲۶۳۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۳۴
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، وَقَالَ : عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى أُمِّ الْفَضْلِ .
سالم ابی النضر سے ان اسناد کے ساتھ ابن عیینہ کی حدیث کی مانند روایت کرتے ہیں اور کہا کہ اس عمیر سے جو ام الفضل کے مولیٰ ہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۲۶۳۴ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی اسی سلسلے کی روایت ہے جس میں عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے بارے میں لوگوں کے شک کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ اس روایت میں سالم ابی النضر کے واسطے سے ابن عیینہ کی حدیث جیسا مضمون نقل ہوا، اور عمیر کو ام الفضل رضی اللہ عنہا کا مولیٰ کہا گیا۔ چونکہ متن میں واقعہ کی تفصیل کم ہے، اس لیے اس سے زیادہ بات نہیں بڑھانی چاہیے۔ اس کا اصل فائدہ یہ ہے کہ پچھلی روایت کے مضمون کی تائید سامنے آتی ہے۔ دینی علم میں سند اور متن دونوں اہم ہیں، اور یہاں متن ہمیں اسی بات کی طرف لے جاتا ہے کہ عرفہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کے بارے میں صحابہ کو وضاحت ملی۔ اس روایت کا لہجہ مختصر ہے، اس لیے تشریح بھی اسی حد میں رہنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مختصر روایت سے صرف وہی بات لی جائے جو متن میں موجود ہو۔
- سند میں راوی کے تعارف کی تفصیل بھی آ سکتی ہے۔
- ایک واقعہ کی متعدد روایات اصل مضمون کو مضبوط کرتی ہیں۔
- حدیث سمجھتے وقت الفاظ کی حد کا خیال رکھنا چاہیے۔
