صحیح بخاری حدیث ۱۹۶۸ - ہر حق والے کا حق ادا کرو
ہر حق والے کا حق ادا کرو: عبادت اور زندگی میں توازن
صحیح بخاری : ۱۹۶۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۶۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْعُمَيْسِ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ سَلْمَانَ ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ : فَزَارَ سَلْمَانُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فَرَأَى أُمَّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً ، فَقَالَ لَهَا : مَا شَأْنُكِ ؟ قَالَتْ : أَخُوكَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي الدُّنْيَا ، فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا ، فَقَالَ : كُلْ ، قَالَ : فَإِنِّي صَائِمٌ ، قَالَ : مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ ، قَالَ : فَأَكَلَ ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ ، ذَهَبَ أَبُو الدَّرْدَاءِ يَقُومُ ، قَالَ : نَمْ ، فَنَامَ ثُمَّ ذَهَبَ يَقُومُ ، فَقَالَ : نَمْ ، فَلَمَّا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ ، قَالَ سَلْمَانُ : قُمْ الْآنَ فَصَلَّيَا ، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ : إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، فَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ " ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : صَدَقَ سَلْمَانُ .
وہب بن عبداللہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان اور ابوالدرداء رضی اللہ عنہ میں (ہجرت کے بعد) بھائی چارہ کرایا تھا۔ایک مرتبہ سلمان رضی اللہ عنہ، ابودرداء رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لیے گئے۔ تو (ان کی عورت) ام الدرداء رضی اللہ عنہا کو بہت پراگندہ حال میں دیکھا۔ ان سے پوچھا کہ یہ حالت کیوں بنا رکھی ہے؟ ام الدرداء رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ تمہارے بھائی ابوالدرداء رضی اللہ عنہ ہیں جن کو دنیا کی کوئی حاجت ہی نہیں ہے پھر ابوالدرداء رضی اللہ عنہ بھی آ گئے اور ان کے سامنے کھانا حاضر کیا اور کہا کہ کھانا کھاؤ، انہوں نے کہا کہ میں تو روزے سے ہوں، اس پر سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں بھی اس وقت تک کھانا نہیں کھاؤں گا جب تک تم خود بھی شریک نہ ہو گے۔راوی نے بیان کیا کہ پھر وہ کھانے میں شریک ہو گئے (اور روزہ توڑ دیا) رات ہوئی تو ابوالدرداء رضی اللہ عنہ عبادت کے لیے اٹھے اور اس مرتبہ بھی سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابھی سو جاؤ۔ پھر جب رات کا آخری حصہ ہوا تو سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اچھا اب اٹھ جاؤ۔ چنانچہ دونوں نے نماز پڑھی۔اس کے بعد سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے۔ جان کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، اس لیے ہر حق والے کے حق کو ادا کرنا چاہئے، پھر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سلمان نے سچ کہا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۹۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت سلمان رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ ابو الدرداء رضی اللہ عنہ عبادت میں بہت مشغول تھے، یہاں تک کہ گھر کی حالت متاثر ہو رہی تھی۔ سلمان رضی اللہ عنہ نے انہیں پہلے کھانے میں شریک کیا، پھر رات میں شروع ہی سے قیام کے بجائے کچھ آرام کرنے کو کہا، اور آخر رات میں نماز پڑھی۔ پھر انہوں نے بہت جامع بات کہی کہ تمہارے رب کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری جان کا بھی حق ہے، اور تمہاری بیوی کا بھی حق ہے، اس لیے ہر حق والے کا حق ادا کرو۔ جب یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ سلمان نے سچ کہا۔ یہ حدیث عبادت میں اعتدال، گھر والوں کے حقوق، اور اپنی جان کے حق کو صاف انداز میں سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رب کی عبادت کے ساتھ نفس اور اہل خانہ کے حقوق بھی ہیں۔
- نفل عبادت کی وجہ سے گھر کے حق کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
- رات کی عبادت کے ساتھ آرام کا بھی خیال رکھا جائے۔
- ہر حق والے کو اس کا حق دینا دین کی اہم تعلیم ہے۔
