صحیح بخاری حدیث ۱۹۶۷ - سحری تک وصال کا حکم
سحری تک وصال: مسلسل روزے کے بارے میں واضح رہنمائی
صحیح بخاری : ۱۹۶۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۶۷
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَا تُوَاصِلُوا ، فَأَيُّكُمْ أَرَادَ أَنْ يُوَاصِلَ فَلْيُوَاصِلْ حَتَّى السَّحَرِ " ، قَالُوا : فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : لَسْتُ كَهَيْئَتِكُمْ ، إِنِّي أَبِيتُ لِي مُطْعِمٌ يُطْعِمُنِي وَسَاقٍ يَسْقِينِ .
ابو سعید خدری روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے، صوم وصال نہ رکھو۔ اور اگر کسی کا ارادہ ہی وصال کا ہو تو سحری کے وقت تک وصال کر لے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی، یا رسول اللہ! آپ تو وصال کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ رات کے وقت ایک کھلانے والا مجھے کھلاتا ہے اور ایک پلانے والا مجھے پلاتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۹۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صوم وصال نہ رکھو۔ اگر کوئی شخص وصال کا ارادہ کرے تو سحری کے وقت تک کرے۔ اس میں بہت واضح حد بندی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عبادت کا شوق اپنی جگہ، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو ایک محفوظ اور آسان راستہ بتایا۔ جب صحابہ نے کہا کہ آپ تو وصال کرتے ہیں، تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں، رات کو میرے لیے کھلانے اور پلانے والا ہے۔ یہ حدیث وصال روزہ، سحری کی حد، اور مسلسل روزوں میں اعتدال کا اہم اصول بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صوم وصال عام طور پر منع ہے۔
- اگر وصال کیا جائے تو اسے سحری تک محدود رکھا جائے۔
- صحابہ نے سوال کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضاحت فرمائی۔
- عبادت میں نبوی حد بندی کو ماننا ضروری ہے۔
