صحیح بخاری حدیث ۱۹۶۶ - طاقت کے مطابق عبادت
طاقت کے مطابق عبادت: صوم وصال سے بچنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۹۶۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۶۶
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ هَمَّامٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالْوِصَالَ " مَرَّتَيْنِ ، قِيلَ : إِنَّكَ تُوَاصِلُ ، قَالَ : إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ ، فَاكْلَفُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبار فرمایا، تم لوگ وصال سے بچو! عرض کیا گیا کہ آپ تو وصال کرتے ہیں، اس پر آپ نے فرمایا کہ رات میں مجھے میرا رب کھلاتا اور وہی مجھے سیراب کرتا ہے۔ پس تم اتنی ہی مشقت اٹھاؤ جتنی تم طاقت رکھتے ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۱۹۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا کہ وصال سے بچو۔ یہ انداز بتاتا ہے کہ مسئلہ اہم ہے اور اسے ہلکا نہیں لینا چاہیے۔ جب عرض کیا گیا کہ آپ تو وصال کرتے ہیں، تو آپ نے فرمایا کہ رات میں مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے۔ پھر آپ نے ایک نہایت عملی اصول بتایا کہ اتنی ہی مشقت اٹھاؤ جتنی تم طاقت رکھتے ہو۔ یہی جملہ اس حدیث کا بڑا پیغام ہے۔ روزہ، نماز اور دوسری عبادات اللہ کی رضا کے لیے ہیں، مگر بندہ اپنے جسم، نیند اور طاقت کو نظر انداز نہ کرے۔ صوم وصال، عبادت میں اعتدال، اور طاقت کے مطابق عمل کے لیے یہ روایت بہت اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وصال روزے سے واضح طور پر بچنے کا حکم دیا گیا۔
- عبادت میں اتنی ہی مشقت لی جائے جتنی طاقت ہو۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاص حالت کو عام مسلمانوں پر لاگو نہیں کیا جائے گا۔
- دین میں مسلسل عمل اہم ہے، خود کو توڑ دینا مطلوب نہیں۔
