صحیح بخاری حدیث ۱۹۶۵ - ضد پر صوم وصال کی تنبیہ

صوم وصال سے نہ رکنے والوں کے لیے نبوی تنبیہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۶۵

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ فِي الصَّوْمِ " ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ : إِنَّكَ تُوَاصِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : وَأَيُّكُمْ مِثْلِي ، إِنِّي أَبِيتُ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِ ، فَلَمَّا أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا عَنِ الْوِصَالِ ، وَاصَلَ بِهِمْ يَوْمًا ، ثُمَّ يَوْمًا ، ثُمَّ رَأَوْا الْهِلَالَ ، فَقَالَ : لَوْ تَأَخَّرَ لَزِدْتُكُمْ ، كَالتَّنْكِيلِ لَهُمْ حِينَ أَبَوْا أَنْ يَنْتَهُوا .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل (کئی دن تک سحری و افطاری کے بغیر) روزہ رکھنے سے منع فرمایا تھا۔ اس پر ایک آدمی نے مسلمانوں میں سے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری طرح تم میں سے کون ہے؟ مجھے تو رات میں میرا رب کھلاتا ہے، اور وہی مجھے سیراب کرتا ہے۔لوگ اس پر بھی جب صوم وصال رکھنے سے نہ رکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ دو دن تک وصال کیا۔ پھر عید کا چاند نکل آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر چاند نہ دکھائی دیتا تو میں اور کئی دن وصال کرتا، گویا جب صوم و صال سے وہ لوگ نہ رکے تو آپ نے ان کو سزا دینے کے لیے یہ کہا۔

صحیح بخاری حدیث ۱۹۶۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل سحری اور افطاری کے بغیر روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ ایک شخص نے عرض کیا کہ آپ تو وصال کرتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کون میری طرح ہے؟ مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے۔ جب لوگ صوم وصال سے نہ رکے تو آپ نے ان کے ساتھ دو دن وصال کیا، پھر عید کا چاند نظر آ گیا۔ آپ نے فرمایا کہ اگر چاند نہ نکلتا تو میں اور بڑھاتا۔ روایت کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات ان لوگوں کو سمجھانے اور روکنے کے لیے تھی۔ یہ حدیث مسلسل روزے کے شوق میں حد سے بڑھنے سے بچاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صوم وصال سے منع کرنے کا حکم بار بار سمجھایا گیا۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال آپ کی خاص شان سے متعلق تھا۔
  • دینی حکم کے سامنے ضد کرنا مناسب نہیں۔
  • کبھی عملی انداز سے بھی لوگوں کو ان کی طاقت کا احساس دلایا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں