صحیح بخاری حدیث ۱۹۶۱ - صوم وصال سے بچنے کی تعلیم

صوم وصال کی حدیث: مسلسل روزے سے منع کرنے کی حکمت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۶۱

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تُوَاصِلُوا ، قَالُوا : إِنَّكَ تُوَاصِلُ ، قَالَ : لَسْتُ كَأَحَدٍ مِنْكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى ، أَوْ إِنِّي أَبِيتُ أُطْعَمُ وَأُسْقَى .

انس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بلا سحر و افطار) پے در پے روزے نہ رکھا کرو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں۔ مجھے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) کھلایا اور پلایا جاتا ہے یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ) میں اس طرح رات گزارتا ہوں کہ مجھے کھلایا اور پلایا جاتا رہتا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۱۹۶۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع صوم وصال ہے، یعنی سحری اور افطار کے بغیر پے در پے روزہ رکھنا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو صاف لفظوں میں فرمایا کہ ایسا نہ کرو۔ جب صحابہ نے عرض کیا کہ آپ خود وصال کرتے ہیں تو آپ نے بتایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔ اس سے بات بہت آسان انداز میں سمجھ آتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خاص معاملہ عام مسلمانوں کے لیے دلیل نہیں بنایا جائے گا۔ روزہ عبادت ہے، مگر عبادت میں اپنی طاقت اور جسمانی حالت کا خیال بھی ضروری ہے۔ اس حدیث میں مسلسل روزہ، بلا سحری روزہ، اور وصال روزہ جیسے اہم مسائل کا خلاصہ موجود ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صوم وصال عام مسلمانوں کے لیے منع کیا گیا ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض خاص اعمال امت کے لیے عام حکم نہیں بنتے۔
  • روزے میں سحری اور افطار کے معمول کو چھوڑ کر خود کو غیر ضروری مشقت میں ڈالنا درست نہیں۔
  • عبادت میں شوق کے ساتھ اپنی طاقت کا خیال بھی رکھا جائے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں