صحیح بخاری حدیث ۱۹۶۲ - وصال روزے سے نبوی ممانعت
وصال روزہ کیا ہے؟ صوم وصال سے ممانعت کی حدیث
صحیح بخاری : ۱۹۶۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۶۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوِصَالِ " ، قَالُوا : إِنَّكَ تُوَاصِلُ ، قَالَ : إِنِّي لَسْتُ مِثْلَكُمْ إِنِّي أُطْعَمُ وَأُسْقَى .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی کہ آپ تو وصال کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے تو کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۹۶۲ کا خلاصہ
اس روایت میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا۔ صوم وصال کا مطلب یہ ہے کہ آدمی افطار کیے بغیر اگلے دن کا روزہ شروع کر دے۔ صحابہ نے پوچھا کہ آپ تو وصال کرتے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہاری طرح نہیں ہوں، مجھے کھلایا اور پلایا جاتا ہے۔ اس حدیث کا پیغام بہت واضح ہے کہ دین میں عبادت کا طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے مطابق ہونا چاہیے، نہ کہ اپنی طرف سے سختی بڑھا کر۔ مسلسل روزے یا وصال روزہ میں عام آدمی کے لیے کمزوری اور مشقت کا اندیشہ ہے، اس لیے اس سے روکا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صوم وصال سے منع فرمایا۔
- عبادت میں اپنی طرف سے حد سے زیادہ سختی اختیار کرنا درست طریقہ نہیں۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خاص حال کو عام مسلمانوں پر قیاس نہیں کیا جائے گا۔
- روزے کا طریقہ سحری اور افطار کے ساتھ آسان رکھا گیا ہے۔
