صحیح بخاری حدیث ۱۹۶۹ - شعبان میں نفل روزوں کی کثرت
شعبان کے روزے: نفل روزوں میں نبوی معمول
صحیح بخاری : ۱۹۶۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۶۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ ، حَتَّى نَقُولَ : لَا يُفْطِرُ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ : لَا يَصُومُ ، فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَكْمَلَ صِيَامَ شَهْرٍ إِلَّا رَمَضَانَ ، وَمَا رَأَيْتُهُ أَكْثَرَ صِيَامًا مِنْهُ فِي شَعْبَانَ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفل روزہ رکھنے لگتے تو ہم (آپس میں) کہتے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھنا چھوڑیں گے ہی نہیں۔ اور جب روزہ چھوڑ دیتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ میں نے رمضان کو چھوڑ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی پورے مہینے کا نفلی روزہ رکھتے نہیں دیکھا اور جتنے روزے آپ شعبان میں رکھتے میں نے کسی مہینہ میں اس سے زیادہ روزے رکھتے آپ کو نہیں دیکھا۔
صحیح بخاری حدیث ۱۹۶۹ کا خلاصہ
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی نفل روزے اتنی کثرت سے رکھتے کہ صحابہ کو لگتا اب آپ روزہ چھوڑیں گے ہی نہیں، اور کبھی روزہ نہ رکھتے تو لگتا اب روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ پھر انہوں نے صاف فرمایا کہ رمضان کے سوا آپ نے کسی مہینے کا پورا نفلی روزہ نہیں رکھا، اور شعبان میں آپ کے روزے دوسرے مہینوں سے زیادہ ہوتے تھے۔ اس حدیث سے نفل روزوں کا ایک معتدل طریقہ سامنے آتا ہے۔ شعبان کے روزے خاص طور پر زیادہ رکھے گئے، مگر رمضان کے علاوہ پورے مہینے کو لازم معمول نہیں بنایا گیا۔ یہ روایت شعبان کے روزے، نفل روزہ، اور روزوں میں اعتدال کے لیے بہت اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان کے علاوہ پورے مہینے کا نفلی روزہ آپ کا مستقل معمول نہیں تھا۔
- شعبان میں نفل روزوں کی کثرت ثابت ہے۔
- نفل عبادت کبھی زیادہ اور کبھی کم بھی ہو سکتی ہے۔
- عبادت کو لازم سمجھ کر خود پر ایسی پابندی نہ لگائی جائے جو حدیث میں لازم نہیں۔
