صحیح بخاری حدیث ۱۹۷۱ - نفل روزوں میں نبوی اعتدال
نفل روزوں میں اعتدال: رمضان کے سوا پورا مہینہ روزہ نہیں
صحیح بخاری : ۱۹۷۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۱۹۷۱
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مَا صَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهْرًا كَامِلًا قَطُّ غَيْرَ رَمَضَانَ ، وَيَصُومُ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ : لَا وَاللَّهِ لَا يُفْطِرُ ، وَيُفْطِرُ حَتَّى يَقُولَ الْقَائِلُ : لَا وَاللَّهِ لَا يَصُومُ " .
ابن عباس روایت:
رمضان کے سوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی پورے مہینے کا روزہ نہیں رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نفل روزہ رکھنے لگتے تو دیکھنے والا کہہ اٹھتا کہ بخدا، اب آپ بے روزہ نہیں رہیں گے اور اسی طرح جب نفل روزہ چھوڑ دیتے تو کہنے والا کہتا کہ واللہ! اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ نہیں رکھیں گے۔
صحیح بخاری حدیث ۱۹۷۱ کا خلاصہ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نفل روزوں کا طریقہ بیان ہوا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ رمضان کے علاوہ آپ نے کبھی پورے مہینے کا روزہ نہیں رکھا۔ کبھی آپ اتنے روزے رکھتے کہ دیکھنے والا کہتا اب آپ روزہ چھوڑیں گے نہیں، اور کبھی روزہ نہ رکھتے تو دیکھنے والا کہتا اب آپ روزہ رکھیں گے نہیں۔ اس میں نفل عبادت کا ایک آسان اور متوازن نمونہ موجود ہے۔ نفل روزے بہت اچھی عبادت ہیں، مگر انہیں اس انداز میں اختیار نہیں کیا گیا کہ آدمی ہر وقت ایک ہی سخت معمول میں بندھ جائے۔ یہ حدیث نفل روزہ، رمضان کے روزے، اور عبادت میں اعتدال کی صاف تعلیم دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رمضان کے علاوہ پورے مہینے کا روزہ آپ کا معمول نہیں تھا۔
- نفل روزوں میں کبھی کثرت اور کبھی وقفہ دونوں ملتے ہیں۔
- نفل عبادت کو اپنی طاقت کے مطابق رکھا جائے۔
- رمضان کے روزے فرض اور الگ حیثیت رکھتے ہیں۔
