صحیح مسلم حدیث ۳۴۳۰ - آج سے قیامت تک متعہ حرام

متعہ آج سے قیامت تک حرام: واضح نبوی حکم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۳۰

وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حدثنا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حدثنا مَعْقِلٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَبْلَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : حدثنا الرَّبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى عَنِ الْمُتْعَةِ ، وَقَالَ : أَلَا إِنَّهَا حَرَامٌ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ كَانَ أَعْطَى شَيْئًا ، فَلَا يَأْخُذْهُ " .

‏‏‏‏ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: روایت کی مجھ سے ربیع بن سبرہ جہنی نے، انہوں نے اپنے باپ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا متعہ سے اور فرمایا کہ ”آگاہ ہو جاؤ وہ آج کے دن سے حرام ہے قیامت کے دن تک اور جس نے کچھ دیا ہو یعنی متعہ کے مہر میں وہ نہ پھیرے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۴۳۰ کا خلاصہ

یہ حدیث نکاح متعہ کے بارے میں بہت صاف اور مختصر حکم بیان کرتی ہے۔ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ ربیع بن سبرہ جہنی نے اپنے والد سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ سے منع فرمایا، اور فرمایا کہ آگاہ ہو جاؤ، وہ آج کے دن سے قیامت کے دن تک حرام ہے۔ اسی کے ساتھ یہ حکم بھی آیا کہ جس نے کچھ دیا ہو وہ اسے واپس نہ لے۔ اس روایت میں دو باتیں خاص طور پر نمایاں ہیں: متعہ کی حرمت اور دی ہوئی چیز واپس نہ لینا۔ اس لیے جو لوگ متعہ حرام ہے حدیث، نکاح متعہ کی حرمت، یا متعہ قیامت تک حرام کے بارے میں تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے یہ حدیث براہ راست جواب دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعہ سے منع فرمایا۔
  • حدیث میں متعہ کو قیامت تک حرام کہا گیا ہے۔
  • دی ہوئی چیز واپس لینے سے منع کیا گیا۔
  • شرعی ممانعت کے بعد عمل چھوڑنا ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں