صحیح مسلم حدیث ۳۴۲۹ - متعہ پر صحابہ کا اختلاف اور ممانعت

متعہ کی رخصت، اختلاف اور بعد کی ممانعت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۴۲۹

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، قَامَ بِمَكَّةَ ، فقَالَ : إِنَّ نَاسًا أَعْمَى اللَّهُ قُلُوبَهُمْ كَمَا أَعْمَى أَبْصَارَهُمْ يُفْتُونَ بِالْمُتْعَةِ يُعَرِّضُ بِرَجُلٍ فَنَادَاهُ ، فقَالَ : إِنَّكَ لَجِلْفٌ جَافٍ ، فَلَعَمْرِي لَقَدْ كَانَتِ الْمُتْعَةُ تُفْعَلُ عَلَى عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ ، يُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فقَالَ لَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ : فَجَرِّبْ بِنَفْسِكَ ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ فَعَلْتَهَا لَأَرْجُمَنَّكَ بِأَحْجَارِكَ ، قَالَ : ابْنُ شِهَابٍ ، فَأَخْبَرَنِي خَالِدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ بْنِ سَيْفِ اللَّهِ : أَنَّهُ بَيْنَا هُوَ جَالِسٌ عَنْدَ رَجُلٍ ، جَاءَهُ رَجُلٌ فَاسْتَفْتَاهُ فِي الْمُتْعَةِ ، فَأَمَرَهُ بِهَا ، فقَالَ لَهُ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ : مَهْلًا ، قَالَ : مَا هِيَ ؟ وَاللَّهِ لَقَدْ فُعِلَتْ فِي عَهْدِ إِمَامِ الْمُتَّقِينَ ، قَالَ ابْنُ أَبِي عَمْرَةَ : إِنَّهَا كَانَتْ رُخْصَةً فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ لِمَنِ اضْطُرَّ إِلَيْهَا كَالْمَيْتَةِ ، وَالدَّمِ ، وَلَحْمِ الْخِنْزِيرِ ، ثُمَّ أَحْكَمَ اللَّهُ الدِّينَ وَنَهَى عَنْهَا ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَأَخْبَرَنِي رَبِيعُ بْنُ سَبْرَةَ الْجُهَنِيُّ : أَنَّ أَبَاهُ ، قَالَ : قَدْ كُنْتُ اسْتَمْتَعْتُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي عَامِرٍ بِبُرْدَيْنِ أَحْمَرَيْنِ ، ثُمَّ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُتْعَةِ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : وَسَمِعْتُ رَبِيعَ بْنَ سَبْرَةَ ، يُحَدِّثُ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَنَا جَالِسٌ .

عروہ بن زبیر روایت:

ابن شہاب زہری نے کہا کہ خبر دی مجھ کو عروہ بن زبیر نے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے مکہ میں، یعنی خطبہ پڑھنے کو اور کہا کہ بعض لوگوں کے دل اللہ تعالیٰ نے اندھے کر دیئے ہیں جیسے ان کی آنکھیں اوندھی کر دی ہیں (یہ اشارہ کیا انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف کہ وہ آخری عمر میں نابینا ہو گئے تھے اور ان کو متعہ کا نسخ نہیں پہنچا تھا اس لئے جواز کا فتویٰ دیتے تھے پھر انہوں نے رجوع کیا جب نسخ معلوم ہو گیا) کہ فتویٰ دیتے ہیں متعہ کے جواز کا اور وہ طعن کرتے تھے ایک شخص پر (یعنی انہی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما پر) اتنے میں پکارا ان کو ایک شخص نے (یعنی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے) اور کہا کہ تم کم فہم، بے ادب، نادان ہو اور قسم ہے میری جان کی کہ متعہ کیا جاتا تھا زمانہ میں امام المتقین کے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے۔سو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ تم اپنے کو آزما دیکھو کہ اللہ کی قسم! اگر تم نے متعہ کیا (یعنی متعہ سے صحبت کی) تو بیشک میں تم کو تمہارے ہی پتھروں سے ماروں گا (یعنی جیسے زانی کو مارتے ہیں) ابن شہاب نے کہا کہ خالد بن مہاجر بن سیف اللہ نے مجھے خبر دی کہ میں ایک شخص کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک دوسرا شخص آیا اور اس نے متعہ کا فتویٰ پوچھا تو انہوں نے حکم دیا متعہ کا، سو ابن ابی عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ذرا ٹھہرو انہوں نے کہا کیوں؟ اللہ کی قسم! میں کیا ہے امام المتقین صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں۔تب ابن ابی عمرہ نے کہا کہ اول اسلام میں جائز تھا اس کے لئے جو نہایت درجہ کا بے قرار ہو جیسے مضطر کو مردہ اور خون اور سور کا گوشت وغیرہ حلال ہے، پھر اللہ پاک نے اپنے دین کو مضبوط کیا اور اس سے منع فرمایا۔ ابن شہاب زہری نے کہا اور خبر دی مجھ کو ربیع بن سبرہ جہنی نے کہ ان کے باپ نے کہا کہ میں نے متعہ کیا تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے مبارک میں بنی عامر کی ایک عورت سے دو سرخ چادروں پر، پھر منع کیا ہم کو اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یعنی متعہ سے۔کہا ابن شہاب نے اور سنا میں نے ربیع بن سبرہ سے کہ وہ روایت کرتے تھے اس حدیث کو عمر بن عبدالعزیز سے اور میں بیٹھا ہوا تھا۔

صحیح مسلم حدیث ۳۴۲۹ کا خلاصہ

یہ حدیث نکاح متعہ کے مسئلے پر ایک لمبی گفتگو نقل کرتی ہے۔ اس میں مکہ میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا کلام، ایک شخص کا جواب، پھر ابن ابی عمرہ انصاری رضی اللہ عنہ کی وضاحت آتی ہے۔ ان کے بیان کے مطابق متعہ اسلام کے شروع زمانے میں ایک رخصت تھی، جیسے سخت مجبوری میں بعض ممنوع چیزوں کی اجازت ہوتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے دین کو مضبوط کیا اور اس سے منع فرما دیا۔ اسی روایت میں سیدنا سبرہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ بھی آیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں متعہ کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ اس حدیث میں اصل بات یہ ہے کہ متعہ کے بارے میں سابقہ عمل کے ساتھ بعد کی ممانعت بھی صاف بیان کی گئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • روایت کے مطابق متعہ شروع اسلام میں رخصت کے طور پر ذکر ہوا۔
  • بعد میں متعہ سے منع کیے جانے کی بات بیان ہوئی۔
  • کسی مسئلے میں صحابہ کے درمیان گفتگو ہو سکتی ہے۔
  • سابقہ عمل کے ساتھ آخری حکم کو سمجھنا ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں