صحیح بخاری حدیث ۳۲۸۹ - جمائی شیطان کی طرف سے ہے

جمائی آئے تو کیا کریں؟ جمائی اور شیطان کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۸۹

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " التَّثَاؤُبُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرُدَّهُ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا ، قَالَ : هَا ضَحِكَ الشَّيْطَانُ " .

ابوہریرہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جمائی شیطان کی طرف سے ہے۔ پس جب کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے۔ کیونکہ جب کوئی (جمائی لیتے ہوئے) ”ہاہا“ کرتا ہے تو شیطان اس پر ہنستا ہے۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۲۸۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں جمائی کے آداب بیان ہوئے ہیں۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جمائی شیطان کی طرف سے ہے، اس لیے جب کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ جب آدمی جمائی لیتے ہوئے ہاہا کرتا ہے تو شیطان اس پر ہنستا ہے۔ اس سے ہمیں روزمرہ زندگی کا ایک سادہ مگر اہم ادب معلوم ہوتا ہے۔ جمائی آنا انسان کے اختیار سے باہر بھی ہو سکتا ہے، لیکن حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اسے بے قابو انداز میں ظاہر نہ کیا جائے۔ آدمی کو کوشش کرنی چاہیے کہ جمائی کو دبائے، منہ کھول کر آواز نہ نکالے، اور اپنے رویے میں سنجیدگی رکھے۔ یہ ایک چھوٹا سا عمل ہے، مگر حدیث نے اسے شیطان کے ہنسنے سے بچنے کا ذریعہ بتایا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • جمائی آئے تو اسے جہاں تک ہو سکے روکنا چاہیے۔
  • جمائی لیتے ہوئے آواز نکالنے سے بچنا چاہیے۔
  • روزمرہ آداب میں بھی دین کی رہنمائی موجود ہے۔
  • حدیث کے مطابق بے قابو جمائی پر شیطان ہنستا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں