صحیح بخاری حدیث ۳۲۹۰ - احد میں غلط فہمی اور حذیفہ رضی اللہ عنہ کی معافی
غلط فہمی میں معافی: حذیفہ رضی اللہ عنہ کا اعلیٰ رویہ
صحیح بخاری : ۳۲۹۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۹۰
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ هِشَامٌ أَخْبَرَنَا ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " لَمَّا كَانَ يَوْمَ أُحُدٍ هُزِمَ الْمُشْرِكُونَ فَصَاحَ إِبْلِيسُ أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أُخْرَاكُمْ ، فَرَجَعَتْ أُولَاهُمْ فَاجْتَلَدَتْ هِيَ وَأُخْرَاهُمْ فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ فَإِذَا هُوَ بِأَبِيهِ الْيَمَانِ ، فَقَالَ : أَيْ عِبَادَ اللَّهِ أَبِي أَبِي فَوَاللَّهِ مَا احْتَجَزُوا حَتَّى قَتَلُوهُ ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : غَفَرَ اللَّهُ لَكُمْ ، قَالَ : عُرْوَةُ فَمَا زَالَتْ فِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ بَقِيَّةُ خَيْرٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ " .
عائشہ روایت:
احد کی لڑائی میں جب مشرکین کو شکست ہو گئی تو ابلیس نے چلا کر کہا کہ اے اللہ کے بندو! (یعنی مسلمانو) اپنے پیچھے والوں سے بچو، چنانچہ آگے کے مسلمان پیچھے کی طرف پل پڑے اور پیچھے والوں کو (جو مسلمان ہی تھے) انہوں نے مارنا شروع کر دیا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو ان کے والد یمان رضی اللہ عنہ بھی پیچھے تھے۔ انہوں نے بہتیرا کہا کہ اے اللہ کے بندو! یہ میرے والد ہیں، یہ میرے والد ہیں۔ لیکن اللہ گواہ ہے کہ لوگوں نے جب تک انہیں قتل نہ کر لیا نہ چھوڑا۔بعد میں حذیفہ رضی اللہ عنہ نے صرف اتنا کہا کہ خیر۔ اللہ تمہیں معاف کرے (کہ تم نے غلط فہمی سے ایک مسلمان کو مار ڈالا) عروہ نے بیان کیا کہ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے قاتلوں کے لیے برابر مغفرت کی دعا کرتے رہے۔ تاآنکہ اللہ سے جا ملے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۲۹۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں احد کے دن کا ایک دردناک واقعہ بیان ہوا ہے۔ جب مشرکین کو شکست ہوئی تو ابلیس نے آواز لگائی کہ اے اللہ کے بندو، اپنے پیچھے والوں سے بچو۔ اس آواز کی وجہ سے آگے کے مسلمان پیچھے والوں پر پلٹ پڑے، حالانکہ وہ بھی مسلمان تھے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ ان کے والد یمان رضی اللہ عنہ بھی پیچھے ہیں۔ انہوں نے بار بار کہا کہ یہ میرے والد ہیں، مگر لوگ نہ رکے یہاں تک کہ وہ شہید ہو گئے۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اس کے بعد کہا: اللہ تمہیں معاف کرے۔ روایت میں آتا ہے کہ وہ اپنے والد کے قاتلوں کے لیے مغفرت کی دعا کرتے رہے۔ اس حدیث کا موضوع شیطان کے فتنہ، جنگ کی غلط فہمی اور معافی کا بڑا سبق ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شیطان افراتفری میں لوگوں کو غلط سمت میں ڈال سکتا ہے۔
- غلط فہمی کے وقت نقصان بہت بڑا ہو سکتا ہے۔
- حذیفہ رضی اللہ عنہ نے سخت صدمے کے باوجود معافی کا رویہ رکھا۔
- مسلمان کو فتنہ اور شور میں احتیاط کرنی چاہیے۔
