صحیح بخاری حدیث ۳۲۹۱ - نماز میں ادھر ادھر دیکھنا

نماز میں ادھر ادھر دیکھنا: خشوع نماز کی اہم حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۹۱

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا : سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْتِفَاتِ الرَّجُلِ فِي الصَّلَاةِ ؟ ، فَقَالَ : " هُوَ اخْتِلَاسٌ يَخْتَلِسُ الشَّيْطَانُ مِنْ صَلَاةِ أَحَدِكُمْ " .

عائشہ روایت:

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شیطان کی ایک اچک ہے جو وہ تم میں سے ایک کی نماز سے کچھ اچک لیتا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۲۹۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا موضوع نماز میں ادھر ادھر دیکھنا اور خشوع ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے پوچھا کہ نماز میں آدمی کا ادھر ادھر دیکھنا کیسا ہے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ شیطان کی ایک اچک ہے جو وہ تم میں سے کسی کی نماز سے کچھ اچک لیتا ہے۔ حدیث کے الفاظ بہت واضح ہیں۔ نماز میں انسان کو اپنے دل اور نظر دونوں کو سنبھالنا چاہیے۔ ادھر ادھر دیکھنے سے نماز کی توجہ کم ہوتی ہے اور شیطان اس موقع سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نماز صرف حرکات کا نام نہیں، بلکہ اس میں دل کی حاضری اور توجہ بھی مطلوب ہے۔ بندہ جتنا اپنی نظر کو قابو میں رکھے گا، اتنا ہی نماز کی کیفیت بہتر ہو سکتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز میں ادھر ادھر دیکھنے سے بچنا چاہیے۔
  • شیطان نمازی کی توجہ کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
  • خشوع کے لیے نظر اور دل دونوں کو سنبھالنا ضروری ہے۔
  • نماز میں غیر ضروری حرکت اور توجہ کی کمی نقصان دہ ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں