صحیح بخاری حدیث ۳۲۹۲ - اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہے
برا خواب آئے تو کیا کریں؟ اچھا خواب اور برا خواب کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۲۹۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۹۲
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ وَالْحُلُمُ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَإِذَا حَلَمَ أَحَدُكُمْ حُلُمًا يَخَافُهُ ، فَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ وَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ " .
´(دوسری سند) ہم سے ابوالمغیرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مثل روایت سابقہ کی حدیث بیان کی) مجھ سے سلیمان بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا، کہا ہم سے اوزاعی نے بیان کیا، کہا کہ` مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے ہے۔ اس لیے اگر کوئی برا اور ڈراونا خواب دیکھے تو بائیں طرف تھوتھو کر کے شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔ اس عمل سے شیطان اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۲۹۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں خواب کے بارے میں واضح رہنمائی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے ہے۔ اگر کوئی شخص برا اور ڈراونا خواب دیکھے تو بائیں طرف تھوتھو کرے اور اس خواب کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے۔ حدیث میں بتایا گیا کہ اس عمل سے وہ خواب اسے نقصان نہیں دے گا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ برا خواب دیکھ کر پریشان ہو جانا یا اسے اپنے اوپر لازم سمجھ لینا درست انداز نہیں۔ بندہ اللہ کی پناہ مانگے، شیطان کے شر سے بچنے کی دعا کرے، اور دل کو اللہ پر رکھے۔ حدیث نے خوف کے وقت ایک سادہ عمل بتایا ہے، اس لیے اسے اسی حد تک سمجھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔
- برا خواب شیطان کی طرف سے ہو سکتا ہے۔
- ڈراونا خواب آئے تو بائیں طرف تھوتھو کر کے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
- حدیث کے مطابق یہ عمل خواب کے نقصان سے بچنے کا سبب ہے۔
