صحیح بخاری حدیث ۷۰۴۴ - اچھا اور برا خواب
برا خواب آئے تو کیا کریں؟ حدیث کی آسان رہنمائی
صحیح بخاری : ۷۰۴۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۷۰۴۴
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، يَقُولُ : لَقَدْ كُنْتُ أَرَى الرُّؤْيَا فَتُمْرِضُنِي ، حَتَّى سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُ : وَأَنَا كُنْتُ لَأَرَى الرُّؤْيَا تُمْرِضُنِي ، حَتَّى سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " الرُّؤْيَا الْحَسَنَةُ مِنَ اللَّهِ ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مَا يُحِبُّ فَلَا يُحَدِّثْ بِهِ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ ، وَإِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ ، فَلْيَتَعَوَّذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّهَا وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَلْيَتْفِلْ ثَلَاثًا وَلَا يُحَدِّثْ بِهَا أَحَدًا ، فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ " .
عبدربہ بن سعید روایت:
میں نے ابوسلمہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں (برے) خواب دیکھتا تھا اور اس کی وجہ سے بیمار پڑ جاتا تھا۔ آخر میں نے قتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا انہوں نے بیان کیا کہ میں بھی خواب دیکھتا اور میں بھی بیمار پڑ جاتا۔ آخر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ اچھے خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں پس جب کوئی اچھے خواب دیکھے تو اس کا ذکر صرف اسی سے کرے جو اسے عزیز ہو اور جب برا خواب دیکھے تو اللہ کی اس کے شر سے پناہ مانگے اور شیطان کے شر سے اور تین مرتبہ تھوتھو کر دے اور اس کا کسی سے ذکر نہ کرے پس وہ اسے ہرگز کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۷۰۴۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں اچھے خواب اور برے خواب کے بارے میں واضح ہدایت آئی ہے۔ ابو سلمہ کہتے ہیں کہ وہ برے خواب دیکھتے تھے اور اس کی وجہ سے بیمار پڑ جاتے تھے۔ پھر انہوں نے ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ بھی ایسا محسوس کرتے تھے، یہاں تک کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی: اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔ جب کوئی پسندیدہ خواب دیکھے تو صرف ایسے شخص سے بیان کرے جسے وہ عزیز رکھتا ہو۔ اور جب ناپسندیدہ خواب دیکھے تو اللہ سے اس کے شر کی پناہ مانگے، شیطان کے شر سے پناہ مانگے، تین مرتبہ تھتکار دے، اور کسی سے بیان نہ کرے۔ حدیث میں فرمایا گیا کہ پھر وہ اسے نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ اس کا موضوع برا خواب، اچھا خواب، اور پناہ کی دعا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اچھا خواب صرف محبوب اور خیر خواہ شخص سے بیان کرنے کی ہدایت آئی ہے۔
- برا خواب آئے تو اللہ اور شیطان کے شر سے پناہ مانگنی چاہیے۔
- ناپسندیدہ خواب کو لوگوں میں بیان نہ کرنے کا حکم اس روایت میں موجود ہے۔
