صحیح بخاری حدیث ۶۹۸۴ - اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہے

خواب کی حدیث: سچا خواب اللہ کی طرف سے، برا خواب شیطان کی طرف سے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۸۴

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ مِنَ اللَّهِ ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ " .

ابوقتادہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(اچھے) خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۹۸۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے خواب کے بارے میں ایک بنیادی فرق بیان فرمایا: سچا یا اچھا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے، اور برا خواب شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ یہ بات مختصر ہے مگر بہت واضح ہے۔ اس سے خواب دیکھنے والے کو یہ سمجھ آتی ہے کہ ہر خواب کو ایک جیسا نہیں سمجھنا چاہیے۔ اچھے خواب پر اللہ کی طرف نسبت آئی ہے، جبکہ پریشان کرنے والے خواب کو شیطان کی طرف قرار دیا گیا ہے۔ اس حدیث میں تفصیلی عمل نہیں بتایا گیا، اس لیے اس کی تشریح میں وہی بات کافی ہے جو متن میں آئی ہے۔ خواب کی حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ خواب کے معاملے میں گھبراہٹ یا بے جا دعوے کے بجائے نبوی رہنمائی کو سامنے رکھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اچھا یا سچا خواب اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔
  • برا خواب شیطان کی طرف سے بتایا گیا ہے۔
  • خوابوں کے بارے میں بات کرتے وقت ہر خواب کو ایک ہی درجہ نہیں دینا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں