صحیح بخاری حدیث ۶۹۸۷ - مومن کا خواب نبوت کا حصہ
مومن کا خواب: نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ
صحیح بخاری : ۶۹۸۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۸۷
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّار ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
عبادہ بن صامت روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہوتا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۹۸۷ کا خلاصہ
مرکزی موضوع: مومن کا خواب۔ اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے مومن کے خواب کی خاص حیثیت بیان فرمائی۔ الفاظ مختصر ہیں مگر معنی بہت واضح ہے کہ مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک خواب کو عام خیال یا بے معنی بات سمجھ کر فوراً رد نہیں کرنا چاہیے، خاص طور پر جب خواب اچھا اور پاکیزہ ہو۔ حدیث میں خواب کی تعبیر، خواب کی سچائی، یا ہر خواب پر حکم لگانے کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے بات اسی حد تک رکھی جائے گی جو حدیث میں آئی ہے۔ مومن کا خواب ایک قابل توجہ چیز ہے، مگر اسے وحی یا شریعت کا مستقل حکم نہیں بنایا گیا۔ اس حدیث کا اصل پیغام خواب کی قدر اور اس کے مقام کو سمجھنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مومن کے خواب کی ایک خاص دینی حیثیت بیان ہوئی ہے۔
- نیک خواب کو بے وزن بات سمجھ کر فوراً نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
- حدیث میں مومن کے خواب کو نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ کہا گیا ہے۔
- اس روایت میں خواب کو شریعت کا نیا حکم بنانے کی بات نہیں آئی۔
