صحیح بخاری حدیث ۶۹۸۸ - مومن کے خواب کی فضیلت
مومن کا خواب اور اس کی دینی اہمیت
صحیح بخاری : ۶۹۸۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۸۸
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " ، وَرَوَاهُ ثَابِتٌ ، وَحُمَيْدٌ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَشُعَيْبٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہوتا ہے۔“ اس کی روایت ثابت، حمید، اسحاق بن عبداللہ اور شعیب نے انس رضی اللہ عنہ سے کی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۹۸۸ کا خلاصہ
مرکزی موضوع: مومن کا خواب۔ اس روایت میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا وہی واضح فرمان نقل ہوا ہے کہ مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہوتا ہے۔ حدیث میں راویوں کے اختلاف یا متعدد طرق کا ذکر بھی ہے، جس سے متن کی نقل کے مختلف راستے سامنے آتے ہیں، لیکن اصل پیغام ایک ہی ہے۔ مومن کا خواب، خاص طور پر نیک خواب، دل کو خیر کی طرف متوجہ کر سکتا ہے۔ اس حدیث کو پڑھتے ہوئے یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہاں ہر خواب کی تعبیر بتانے یا ہر خواب کو قطعی فیصلہ بنانے کی بات نہیں کی گئی۔ اصل بات یہ ہے کہ مومن کے خواب کی ایک قدر ہے، اور اسے نیک خواب کے باب میں سمجھنا چاہیے۔ خواب کی حدیث، رؤیا صالحہ، اور مومن کا خواب جیسے سرچ الفاظ اسی معنی کو ڈھونڈنے والوں کے لیے مناسب ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مومن کے خواب کو حدیث میں بلند نسبت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
- ایک ہی مضمون مختلف صحابہ سے بھی روایت ہوا ہے۔
- ہر خواب پر اپنی طرف سے قطعی حکم لگانا اس حدیث میں نہیں سکھایا گیا۔
- نیک خواب کو اللہ کی طرف سے خیر کی علامت سمجھا جا سکتا ہے، حدیث کے دائرے میں رہتے ہوئے۔
