صحیح بخاری حدیث ۶۹۹۴ - نبی صلى الله عليه وسلم کو خواب میں دیکھنے کی حقیقت
خواب میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو دیکھنا اور مومن کا خواب
صحیح بخاری : ۶۹۹۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۹۹۴
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَخَيَّلُ بِي ، وَرُؤْيَا الْمُؤْمِنِ جُزْءٌ مِنْ سِتَّةٍ وَأَرْبَعِينَ جُزْءًا مِنَ النُّبُوَّةِ " .
انس بن مالک روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے مجھے خواب میں دیکھا تو اس نے واقعی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا اور مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک جزو ہوتا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۹۹۴ کا خلاصہ
مرکزی موضوع: نبی کا خواب۔ اس حدیث میں دو اہم باتیں آئی ہیں۔ پہلی یہ کہ جس نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو خواب میں دیکھا تو اس نے واقعی دیکھا، کیونکہ شیطان آپ صلى الله عليه وسلم کی صورت اختیار نہیں کر سکتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک جزو ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خواب کے باب میں نیک اور سچے خواب کی ایک دینی حیثیت ہے، خاص طور پر جب خواب نبی صلى الله عليه وسلم سے متعلق ہو۔ لیکن حدیث کے الفاظ سے بڑھ کر ہر دعوے کو درست کہنا مناسب نہیں۔ خواب میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم، مومن کا خواب، رؤیا صالحہ، اور شیطان صورت نہیں بنا سکتا جیسے الفاظ اس حدیث کے اصل مضمون سے قریب ہیں۔ یہ روایت خواب کے بارے میں امید بھی دیتی ہے اور احتیاط بھی سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کو خواب میں دیکھنے کے بارے میں حدیث میں خاص بات آئی ہے۔
- شیطان آپ صلى الله عليه وسلم کی صورت نہیں بنا سکتا۔
- مومن کا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ کہا گیا ہے۔
- خواب کے معاملے میں دعویٰ کرتے وقت حدیث کی حد کا خیال رکھنا چاہیے۔
