صحیح بخاری حدیث ۳۳۰ - طواف وداع میں حائضہ کی رخصت

حائضہ عورت کے لیے طواف وداع کی رخصت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۰

وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يَقُولُ فِي أَوَّلِ أَمْرِهِ : إِنَّهَا لَا تَنْفِرُ ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : تَنْفِرُ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ لَهُنَّ " .

ابن عمر روایت:

´ابن عمر ابتداء میں اس مسئلہ میں کہتے تھے کہ` اسے (بغیر طواف وداع کے) جانا نہیں چاہیے۔ پھر میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا کہ چلی جائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس کی رخصت دی ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۳۰ کا خلاصہ

اس روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ شروع میں وہ کہتے تھے کہ حائضہ عورت کو بغیر طواف وداع کے نہیں جانا چاہیے۔ پھر راوی نے انہیں بعد میں یہ کہتے سنا کہ وہ جا سکتی ہے، کیونکہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ان عورتوں کو اس کی رخصت دی ہے۔ اس روایت کا اصل موضوع حائضہ عورت کی رخصت ہے، خاص طور پر حج میں روانگی اور طواف وداع کے مسئلے سے متعلق۔ اس میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ جب نبی صلى الله عليه وسلم کی رخصت معلوم ہوئی تو پہلے قول سے رجوع کیا گیا۔ اس حدیثی بیان میں حائضہ عورت، طواف وداع، حج کی رخصت اور نبی صلى الله عليه وسلم کا حکم جیسے اہم الفاظ آتے ہیں۔ روایت کی حد یہی ہے کہ اجازت نبی صلى الله عليه وسلم کی رخصت کی بنیاد پر بیان کی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم کی رخصت معلوم ہو جائے تو اسی کو اختیار کرنا چاہیے۔
  • ابن عمرؓ نے بعد میں حائضہ عورت کے جانے کی اجازت بیان کی۔
  • دینی مسئلے میں صحیح خبر ملنے پر اپنی رائے بدلنا اچھی بات ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں