صحیح بخاری حدیث ۳۳۴۳ - اللہ کی مدد اور قوم عاد کا انجام

قوم عاد کی ہلاکت اور اللہ کی مدد والی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۴۳

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ " .

ابن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”(غزوہ خندق کے موقع پر) پروا ہوا سے میری مدد کی گئی اور قوم عاد پچھوا ہوا سے ہلاک کر دی گئی تھی۔“

صحیح بخاری حدیث ۳۳۴۳ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع اللہ کی مدد اور قوم عاد کا انجام ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ پروا ہوا کے ذریعے آپ صلى الله عليه وسلم کی مدد کی گئی، اور قوم عاد پچھوا ہوا سے ہلاک کی گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہوا بھی اللہ کے حکم کے تابع ہے۔ وہی ہوا کسی کے لیے مدد بن سکتی ہے اور کسی کے لیے عذاب۔ یہاں غزوہ خندق کے موقع پر مدد کا ذکر آیا ہے، جبکہ قوم عاد کی ہلاکت بھی اسی مختصر مگر مضبوط جملے میں بیان ہوئی۔ اس حدیث کو لوگ عموماً قوم عاد کی حدیث، پروا ہوا کی حدیث، اور نصرت بالصبا کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔ حدیث ہمیں اللہ کی قدرت یاد دلاتی ہے اور یہ بھی بتاتی ہے کہ کامیابی صرف ظاہری اسباب سے نہیں، اللہ کے حکم سے ملتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد ایسے اسباب سے بھی فرماتا ہے جن پر انسان کا اختیار نہیں ہوتا۔
  • ہوا، بارش اور دیگر قدرتی چیزیں اللہ کے حکم کے تابع ہیں۔
  • قوم عاد کا ذکر انسان کو اللہ کے عذاب سے ڈرنے اور نافرمانی سے بچنے کی یاد دلاتا ہے۔
  • نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی مدد اللہ کی خاص نصرت سے ہوئی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں