صحیح بخاری حدیث ۳۲۰۵ - ہوا بھی اللہ کے حکم سے اثر کرتی ہے
بادِ صبا اور دبور کی حدیث: ہوا اللہ کے حکم سے چلتی ہے
صحیح بخاری : ۳۲۰۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۰۵
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " نُصِرْتُ بِالصَّبَا ، وَأُهْلِكَتْ عَادٌ بِالدَّبُورِ " .
ابن عباس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” «بالصبا» باد صبا (مشرقی ہوا) کے ذریعہ میری مدد کی گئی اور قوم عاد «دبور"» (مغربی ہوا) سے ہلاک کر دی گئی تھی۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۲۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع اللہ کی قدرت اور ہوا کا اثر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری مدد بادِ صبا یعنی مشرقی ہوا کے ذریعے کی گئی، اور قوم عاد دبور یعنی مغربی ہوا سے ہلاک کی گئی۔ حدیث میں لمبی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے بات کو اسی حد تک سمجھنا چاہیے کہ ہوا بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت ہے۔ کبھی وہ مدد کا ذریعہ بنتی ہے اور کبھی کسی قوم کے لیے گرفت کا سبب بن سکتی ہے۔ اس حدیث میں قوم عاد کا ذکر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ کائنات کی چیزیں خود مختار نہیں، بلکہ اللہ کے حکم سے کام کرتی ہیں۔ مسلمان کے لیے اصل سبق یہ ہے کہ ہر طاقت کے پیچھے اللہ کی مشیت کو مانے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہوا بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہے۔
- اللہ چاہے تو کسی چیز کو مدد کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔
- قوم عاد کا ذکر اللہ کی گرفت کو یاد دلاتا ہے۔
- کائنات کی قوتوں کو مستقل اختیار والا نہیں سمجھنا چاہیے۔
