صحیح بخاری حدیث ۴۸۲۸ - نبی صلى الله عليه وسلم کا باوقار تبسم
نبی صلى الله عليه وسلم کا تبسم اور اللہ کے خوف کا انداز
صحیح بخاری : ۴۸۲۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۴۸۲۸
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ .
عائشہ روایت:
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی اس طرح ہنستے نہیں دیکھا کہ آپ کے حلق کا کوا نظر آ جائے بلکہ آپ تبسم فرمایا کرتے تھے، بیان کیا کہ جب بھی آپ بادل یا ہوا دیکھتے تو (گھبراہٹ اور اللہ کا خوف) آپ کے چہرہ مبارک سے پہچان لیا جاتا۔
صحیح بخاری حدیث ۴۸۲۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے ہنسنے کے انداز کو بیان کرتی ہیں۔ وہ فرماتی ہیں کہ میں نے آپ صلى الله عليه وسلم کو کبھی اس طرح کھل کر ہنستے نہیں دیکھا کہ حلق کا کوا نظر آ جائے، بلکہ آپ صلى الله عليه وسلم تبسم فرمایا کرتے تھے۔ اس سے نبوی اخلاق کا ایک خوبصورت پہلو سامنے آتا ہے کہ خوشی اور نرمی کے ساتھ بھی وقار باقی رہتا ہے۔ روایت کے دوسرے حصے میں بادل یا ہوا دیکھنے پر آپ صلى الله عليه وسلم کے چہرے سے خوف محسوس ہوتا تھا۔ یہ بات ہمیں بتاتی ہے کہ مومن فطرت کی چیزوں کو صرف موسم نہیں سمجھتا، بلکہ اللہ کی قدرت کو یاد رکھتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کا انداز نرم، باوقار اور متوازن تھا۔
- تبسم بھی خوش اخلاقی کا خوبصورت طریقہ ہے۔
- بادل اور ہوا جیسی چیزیں اللہ کی قدرت یاد دلاتی ہیں۔
- مومن خوشی میں بھی اللہ کے خوف کو بھولتا نہیں۔
