صحیح بخاری حدیث ۳۲۰۴ - گرہن، توہمات اور نماز کا حکم
سورج اور چاند گرہن کی حدیث: توہم نہیں، نماز پڑھو
صحیح بخاری : ۳۲۰۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۰۴
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ ، وَلَا لِحَيَاتِهِ ، وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَصَلُّوا " .
ابومسعود انصاری روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سورج اور چاند میں کسی کی موت یا حیات پر گرہن نہیں لگتا۔ بلکہ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے نشانی ہیں اس لیے جب تم ان میں گرہن دیکھو تو نماز پڑھو۔“
صحیح بخاری حدیث ۳۲۰۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت صاف بات فرمائی کہ سورج اور چاند میں گرہن کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے نہیں لگتا۔ یہ بات اس لیے اہم ہے کہ لوگ بڑے واقعات کو اکثر کسی شخص یا حادثے سے جوڑ دیتے ہیں۔ حدیث ہمیں اس سوچ سے نکالتی ہے اور بتاتی ہے کہ گرہن اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اس لیے جب سورج گرہن یا چاند گرہن نظر آئے تو مسلمان کا کام قیاس آرائیاں کرنا نہیں، بلکہ نماز پڑھنا ہے۔ نمازِ کسوف کا اصل پیغام یہی ہے کہ دل اللہ کی طرف پلٹے، زبان ذکر میں لگے اور انسان اللہ کی قدرت کو مانے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- گرہن کو انسانی موت یا پیدائش سے جوڑنا درست نہیں۔
- سورج اور چاند اللہ کی نشانیاں ہیں۔
- گرہن کے وقت نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
- مسلمان کو توہمات کے بجائے عبادت کی طرف جانا چاہیے۔
