صحیح بخاری حدیث ۳۳۵۰ - ابراہیم علیہ السلام اور آذر
ابراہیم علیہ السلام اور آذر کی قیامت والی حدیث
صحیح بخاری : ۳۳۵۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۵۰
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَخِي عَبْدُ الْحَمِيدِ ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَلْقَى إِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ آزَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَعَلَى وَجْهِ آزَرَ قَتَرَةٌ وَغَبَرَةٌ ، فَيَقُولُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ : أَلَمْ أَقُلْ لَكَ لَا تَعْصِنِي ، فَيَقُولُ : أَبُوهُ فَالْيَوْمَ لَا أَعْصِيكَ ، فَيَقُولُ إِبْرَاهِيمُ : يَا رَبِّ إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنْ لَا تُخْزِيَنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ فَأَيُّ خِزْيٍ أَخْزَى مِنْ أَبِي الْأَبْعَدِ ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى : إِنِّي حَرَّمْتُ الْجَنَّةَ عَلَى الْكَافِرِينَ ، ثُمَّ يُقَالُ : يَا إِبْرَاهِيمُ مَا تَحْتَ رِجْلَيْكَ فَيَنْظُرُ فَإِذَا هُوَ بِذِيخٍ مُلْتَطِخٍ فَيُؤْخَذُ بِقَوَائِمِهِ فَيُلْقَى فِي النَّارِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام اپنے والد آذر سے قیامت کے دن جب ملیں گے تو ان کے (والد کے) چہرے پر سیاہی اور غبار ہو گا۔ ابراہیم علیہ السلام کہیں گے کہ کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ میری مخالفت نہ کیجئے۔ وہ کہیں گے کہ آج میں آپ کی مخالفت نہیں کرتا۔ابراہیم علیہ السلام عرض کریں گے کہ اے رب! تو نے وعدہ فرمایا تھا کہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہیں کرے گا۔ آج اس رسوائی سے بڑھ کر اور کون سی رسوائی ہو گی کہ میرے والد تیری رحمت سے سب سے زیادہ دور ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے جنت کافروں پر حرام قرار دی ہے۔ پھر کہا جائے گا کہ اے ابراہیم! تمہارے قدموں کے نیچے کیا چیز ہے؟ وہ دیکھیں گے تو ایک ذبح کیا ہوا جانور خون میں لتھڑا ہوا وہاں پڑا ہو گا اور پھر اس کے پاؤں پکڑ کر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۳۵۰ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع ایمان اور آخرت کا فیصلہ ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ قیامت کے دن ابراہیم علیہ السلام اپنے والد آذر سے ملیں گے۔ آذر کے چہرے پر سیاہی اور غبار ہوگا۔ ابراہیم علیہ السلام کہیں گے کہ کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ میری مخالفت نہ کریں۔ وہ جواب دیں گے کہ آج میں آپ کی مخالفت نہیں کرتا۔ پھر ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے کہ میرے رب، تو نے وعدہ فرمایا تھا کہ مجھے قیامت کے دن رسوا نہ کرے گا، اور میرے والد کا تیری رحمت سے دور ہونا بڑی رسوائی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں نے جنت کافروں پر حرام کی ہے۔ اس حدیث میں نسب، محبت، ایمان، کفر، اور آخرت کے فیصلے کا ذکر ہے۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ قیامت کے دن اصل معیار ایمان ہوگا، صرف رشتہ کافی نہیں ہوگا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قیامت کے دن ایمان اصل معیار ہوگا، صرف خاندانی رشتہ کافی نہیں۔
- ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کے معاملے پر اللہ سے عرض کی۔
- اللہ تعالیٰ نے جنت کافروں پر حرام قرار دی ہے۔
- آخرت کے فیصلے اللہ کے حکم اور عدل کے مطابق ہوں گے۔
