صحیح بخاری حدیث ۳۳۴۹ - حشر اور جواب دہی

حشر کی حدیث: انسان جیسے پیدا ہوا ویسے اٹھایا جائے گا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۴۹

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّكُمْ مَحْشُورُونَ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا ، ثُمَّ قَرَأَ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُعِيدُهُ وَعْدًا عَلَيْنَا إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ سورة الأنبياء آية 104 وَأَوَّلُ مَنْ يُكْسَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِبْرَاهِيمُ ، وَإِنَّ أُنَاسًا مِنْ أَصْحَابِي يُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ : أَصْحَابِي ، أَصْحَابِي ، فَيَقُولُ : إِنَّهُمْ لَمْ يَزَالُوا مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ مُنْذُ فَارَقْتَهُمْ فَأَقُولُ كَمَا ، قَالَ : الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِيهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي إِلَى قَوْلِهِ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ سورة المائدة آية 117 - 118 " .

ابن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم لوگ حشر میں ننگے پاؤں، ننگے جسم اور بن ختنہ اٹھائے جاؤ گے۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی «كما بدأنا أول خلق نعيده وعدا علينا إنا كنا فاعلين‏» ”جیسا کہ ہم نے پیدا کیا تھا پہلی مرتبہ، ہم ایسے ہی لوٹائیں گے۔ یہ ہماری طرف سے ایک وعدہ ہے جس کو ہم پورا کر کے رہیں گے (سورۃ انبیاء)۔ اور انبیاء میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو کپڑا پہنایا جائے گا اور میرے اصحاب میں سے بعض کو جہنم کی طرف لے جایا جائے گا تو میں پکار اٹھوں گا کہ یہ تو میرے اصحاب ہیں، میرے اصحاب! لیکن مجھے بتایا جائے گا کہ آپ کی وفات کے بعد ان لوگوں نے پھر کفر اختیار کر لیا تھا۔اس وقت میں بھی وہی جملہ کہوں گا جو نیک بندے (عیسیٰ علیہ السلام) کہیں گے «وكنت عليهم شهيدا ما دمت فيهم‏» ”جب تک میں ان کے ساتھ تھا۔ ان پر نگران تھا۔“ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «الحكيم» ‏‏‏‏ تک۔

صحیح بخاری حدیث ۳۳۴۹ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع حشر اور جواب دہی ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں، ننگے جسم اور بغیر ختنہ اٹھائے جاؤ گے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے قرآن کی آیت پڑھی کہ جیسے ہم نے پہلی بار پیدا کیا، ویسے ہی دوبارہ لوٹائیں گے۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ انبیاء میں سب سے پہلے ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا۔ پھر نبی صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ آپ کے بعض اصحاب کو بائیں طرف لے جایا جائے گا، تو آپ صلى الله عليه وسلم فرمائیں گے میرے اصحاب، میرے اصحاب۔ جواب دیا جائے گا کہ آپ کے بعد انہوں نے اپنے قدم پیچھے پھیر لیے تھے۔ اس موقع پر نبی صلى الله عليه وسلم وہی بات کہیں گے جو عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے۔ یہ حدیث حشر، آخرت، ایمان پر قائم رہنے، اور نبی صلى الله عليه وسلم کے بعد دین سے نہ پھرنے کی تنبیہ دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • قیامت کے دن انسان کو دوبارہ اسی طرح اٹھایا جائے گا جیسے پہلی بار پیدا کیا گیا۔
  • ابراہیم علیہ السلام کو قیامت کے دن سب سے پہلے لباس پہنایا جائے گا۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم کے بعد دین پر قائم رہنا بہت اہم ہے۔
  • آخرت میں ظاہری نسبت نہیں، ایمان پر ثابت رہنا کام آئے گا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں