صحیح بخاری حدیث ۳۳۶۸ - کعبہ کی ابراہیمی بنیاد

کعبہ کی ابراہیمی بنیاد اور حکمت والی رہنمائی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۶۸

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ ابْنَ أَبِي بَكْرٍ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ لَمَّا بَنَوْا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ ، فَقَالَ : لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ " ، وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تمہیں معلوم نہیں کہ جب تمہاری قوم نے کعبہ کی (نئی) تعمیر کی تو کعبہ کی ابراہیمی بنیاد کو چھوڑ دیا۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر آپ ابراہیمی بنیادوں کے مطابق دوبارہ اس کی تعمیر کیوں نہیں کر دیتے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر سے قریب نہ ہوتا (تو میں ایسا ہی کرتا) عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جب کہ یہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں رکنوں کے، جو حجر اسود کے قریب ہیں، بوسہ لینے کو صرف اسی وجہ سے چھوڑا تھا کہ بیت اللہ ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر نہیں بنا ہے (یہ دونوں رکن آگے ہٹ گئے ہیںاسماعیل بن ابی اویس نے اس حدیث میں عبداللہ بن محمد بن ابی بکر کہا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۳۶۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ تمہاری قوم نے کعبہ کی تعمیر کرتے وقت ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد کو چھوڑ دیا۔ جب عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ آپ اسے ابراہیمی بنیادوں پر کیوں نہیں بنا دیتے، تو نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر تمہاری قوم کا کفر سے زمانہ قریب نہ ہوتا تو ایسا کیا جاتا۔ اس سے حدیث کا اہم پہلو سامنے آتا ہے کہ درست کام بھی حکمت، وقت اور لوگوں کی حالت کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اسی بات سے رکنوں کے بوسہ لینے کے بارے میں بھی ایک خیال بیان کیا۔ اس روایت کا ایس ای او موضوع کعبہ کی بنیاد، ابراہیمی بنیاد، حجر اسود کے رکن، اور نبوی حکمت ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کعبہ کی موجودہ تعمیر کے بارے میں ابراہیمی بنیاد کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
  • رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے لوگوں کے حالات کو دیکھ کر بڑا قدم مؤخر رکھا۔
  • دینی معاملات میں حکمت اور مصلحت کا خیال رکھنا اہم ہے۔
  • حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر درست کام فوراً کرنا ہر حال میں مناسب نہیں ہوتا۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں