صحیح بخاری حدیث ۳۳۸۳ - عزت کا اصل معیار تقویٰ
سب سے زیادہ شریف کون؟ تقویٰ اور دین کی سمجھ کا پیغام
صحیح بخاری : ۳۳۸۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۳۸۳
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكْرَمُ النَّاسِ ، قَالَ : " أَتْقَاهُمْ لِلَّهِ ، قَالُوا : لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ ، قَالَ : فَأَكْرَمُ النَّاسِ يُوسُفُ نَبِيُّ اللَّهِ ابْنُ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ نَبِيِّ اللَّهِ ابْنِ خَلِيلِ اللَّهِ ، قَالُوا : لَيْسَ عَنْ هَذَا نَسْأَلُكَ ، قَالَ : فَعَنْ مَعَادِنِ الْعَرَبِ تَسْأَلُونِي النَّاسُ مَعَادِنُ خِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقُهُوا " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ شریف آدمی کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو اللہ کا خوف زیادہ رکھتا ہو۔“ صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا مقصد یہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر سب سے زیادہ شریف اللہ کے نبی یوسف بن نبی اللہ بن نبی اللہ بن خلیل اللہ ہیں۔صحابہ نے عرض کیا کہ ہمارے سوال کا مقصد یہ بھی نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ عرب کے خانوادوں کے بارے میں پوچھنا چاہتے ہو۔ دیکھو! لوگوں کی مثال کانوں کی سی ہے (کسی کان میں سے اچھا مال نکلتا ہے کسی میں سے برا) جو لوگ تم میں سے زمانہ جاہلیت میں شریف اور بہتر اخلاق کے تھے وہی اسلام کے بعد بھی اچھے اور شریف ہیں بشرطیکہ وہ دین کی سمجھ حاصل کریں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۳۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع عزت اور تقویٰ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ شریف آدمی کون ہے؟ آپ نے پہلے فرمایا کہ جو اللہ سے زیادہ ڈرتا ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں اصل عزت مال، نام یا خاندان سے نہیں بلکہ اللہ کے خوف اور تقویٰ سے ہے۔ پھر آپ نے یوسف علیہ السلام کا ذکر فرمایا، جو خود نبی تھے اور ان کے والد، دادا اور پردادا بھی انبیاء میں سے تھے۔ آخر میں آپ نے عرب خاندانوں کے بارے میں بتایا کہ لوگ کانوں کی طرح ہوتے ہیں؛ جو جاہلیت میں اچھے اخلاق والے تھے، وہ اسلام میں بھی اچھے ہو سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ دین کی سمجھ حاصل کریں۔ یہی وجہ ہے کہ نیکی، شرافت، تقویٰ کی حدیث اور دین کی سمجھ جیسے موضوعات اس روایت سے جڑے ہوئے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اصل عزت اللہ کے خوف اور تقویٰ سے ہے۔
- اچھا خاندان اپنی جگہ ہے، مگر دین کی سمجھ کے بغیر فضیلت مکمل نہیں بنتی۔
- اچھے اخلاق اسلام میں بھی انسان کی بہتری کا ذریعہ بنتے ہیں۔
- یوسف علیہ السلام کو پاکیزہ نسب اور نبوت کی وجہ سے خاص شرافت ملی۔
